.

آستانہ :شام امن مذاکرات کے نئے دور کا باغی دھڑوں کے بغیر آغاز

شامی حکومت کا وفد آستانہ میں بنیادی طور پر روس اور ایران کے وفود سے ملاقات کے لیے آیا ہے: بشارالجعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منگل کے روز شام امن مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز ہو گیا ہے لیکن مسلح باغی دھڑے ان میں شرکت نہیں کررہے ہیں جس کے بعد اس بات چیت میں کسی نمایاں پیش رفت کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔

آستانہ میں ان مذاکرات کے اسپانسر شامی صدر بشارالاسد کے پشتیبان ممالک روس اور ایران جبکہ باغیوں کا حامی ترکی ہیں۔اس سے پہلے شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔

شام کے اقوام متحدہ میں سفیر اور اسد حکومت کے اعلیٰ مذاکرات کار بشارالجعفری نے باغی دھڑوں کے ان مذاکرات میں عدم شرکت کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی عدم موجودگی کے باوجود بھی ان مذاکرات میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق بشارالجعفری نے کہا ہے کہ ’’ مسلح دھڑے خواہ شرکت کرتے ہیں یا نہیں لیکن ہم آستانہ راستے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ مسلح دھڑوں کی آستانہ میں شرکت میں ناکامی سے ان کی سیاست میں غیر شائستگی ظاہر ہوتی ہے۔

بشارالجعفری کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کا وفد آستانہ میں بنیادی طور پر روس اور ایران کے وفود سے ملاقات کے لیے آیا ہے ،حزب اختلاف کے مسلح گروپوں سے نہیں۔طرفین اب حزب اختلاف کو دہشت گردوں سے الگ کرنے کے موضوع پر بات چیت کریں گے۔

آستانہ میں مذاکرات کے سابقہ دو ادوار میں دسمبر میں روس اور ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں شام میں ہونے والے جنگ بندی کے سمجھوتے کو پائیدار بنانے پر گفتگو کی گئی تھی۔اس جنگ بندی کے باوجود جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور روس اور شام کے لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان اسامہ ابو زید نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق وعدوں کو ایفاء نہ کرنے پر باغی گروپوں نے آستانہ امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

شامی باغیوں نے گذشتہ ہفتے ان مذاکرات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ آیندہ بات چیت کا انحصار حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اعلان کردہ نئی جنگ بندی کی پاسداری پر ہوگا۔

دریں اثناء کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے مختلف فریقوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے آستانہ مذاکرات وقتاً فوقتاً حقیقی معنوں میں پیچیدہ ہوجاتے تھے۔

ادھر جنیوا میں شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 23 مارچ کو شروع ہوگا۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا کے مطابق ان مذاکرات میں نظم ونسق ،آئین ،انتخابات ،انسداد دہشت گردی اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔