.

اسرائیلی فورسز نے فلسطینی نقشہ دفتر بند کردیا ،سربراہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے ایک تحقیقاتی مرکز کو چھے ماہ کے لیے بند کردیا ہے اور اس کے ڈائریکٹر کو گرفتار کر لیا ہے۔اسرائیلی پولیس نے ان پر فلسطینی سکیورٹی سروسز کے لیے کام کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں مقبوضہ بیت المقدس میں نقشہ نویس کے دفتر کو چھے ماہ کے لیے بند کرنے کی تصدیق کی ہے۔اسرائیلی حکام نے دفتر کے سربراہ خلیل طفاکجی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے کام کررہے تھے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی یہودیوں کو اراضی کی فروخت کی نگرانی کررہے تھے۔

اسرائیل کی داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد ایردان نے کہا ہے کہ ’’طفاکجی کا کام فلسطینی اتھارٹی کے یروشیلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں ہماری خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے منصوبے کا حصہ تھا اور وہ شہر میں یہود کو اپنی اراضی فروخت کرنے والے فلسطینیوں کو دہشت زدہ کررہے تھے‘‘۔

اس انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے کہا ہے کہ ’’ میں مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی خود مختاری کو روکنے کے لیے پوری طاقت سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھوں گا‘‘۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے ایک بیان میں نقشہ دفتر کی غیر قانونی بندش اور اس کے سربراہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اس کارروائی کو اسرائیل کے شہر میں فلسطینیوں کی موجودگی اور شناخت کو مٹانے کے منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی قانون کے تحت اسرائیلی آباد کاروں کو زمین کی فروخت ایک تعزیری جرم ہے اور اس کی سزا موت ہے۔ فلسطینی قائدین اسرائیلی حکومت پر مقبوضہ بیت المقدس کو ’’یہودیانے‘‘ کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں جس کے تحت فلسطینیوں کی اراضی اونے پونے داموں ہتھیائی جارہی ہے یا حیلوں بہانوں سے ضبط کی جارہی ہے اور اس شہر کی عرب شناخت مٹائی جارہی ہے۔اس وقت مشرقی القدس کے مختلف حصوں میں قائم یہود کی بستیوں میں دو لاکھ کے لگ بھگ یہودی آباد کار رہ رہے ہیں۔

خلیل طفاکجی گذشتہ کئی برسوں سے فلسطینی علاقوں کی نقشہ نویسی کررہے تھے اور بین الاقوامی ماہرین اور عالمی پریس میں فلسطینی علاقوں اور ان کی اراضی سے متعلق مضامین اور خبروں میں ان ہی کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ وہ اورینٹ ہاؤس میں رہ کر کام کرتے تھے۔یہ مقبوضہ بیت المقدس میں ایک طویل عرصے تک فلسطینی ثقافت کا مرکز رہا تھا اور تنظیم آزادیِ فلسطین ( پی ایل او ) کے تحت کام کررہا تھا لیکن اس کو اسرائیل نے سنہ 2000ء میں بند کردیا تھا۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

اسرائیل پورے مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا متحدہ دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔