.

یمنی باغیوں کے ہاتھوں 38 ہزار شہری جاں بحق اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ رپورٹس اور اعدادو شمار کے مطابق یکم جنوری 2015ء سے اب تک ایران نواز حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا نے 38 ہزار یمنی شہریوں کو موت اور زخمی کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کی وزارت برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ جنوری 2015ء سے 31 جنوری 2017ء تک یمنی باغیوں کے ہاتھوں 11 ہزار یمنی شہری لقمہ اجل بنے جب کہ خواتین اور بچوں سمیت 27 ہزارشہری زخمی ہوئے ہیں۔

یمن کے نائب وزیر برائے انسانی حقوق محمد عسکری نے یہ اعدادو شمار جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 34 ویں اجلاس کے موقع پر کانفرنس کے دوران پیش کیے۔

رپورٹ میں یمنی باغیوں کے ان ہتھکنڈوں کی بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو نہتے شہریوں کے جانی نقصان کا موجب بنے۔ ان میں آبادی پر اندھا دھند گولہ باری، بارودی سرنگیں اور دیگر حربے شامل ہیں۔ عام شہری آبادی پر گولہ باری کےنتیجے میں 315 بچوں سمیت 673 شہری جاں بحق اور 358 زخمی ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق باغیوں نے 16 ہزار 804 شہری، سماجی کارکن، صحافی، انسانی حقوق کےمندوبین، دانشور اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو اغواء کیا۔ ان میں 2866 شہری جبری غائب کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یمنی باغیوں نے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کوجنگ میں جھونکا جن میں سے بڑی تعداد میں بچے اور عورتیں ہلاک اور زخمی ہوئیں۔

حوثیوں اور علی صالح ملیشیا نے دو سال کے دوران 3557 عوامی املاک سمیت 29 ہزار املاک تباہ کیں۔ان میں اسپتال، اسکول، پانی اور بجلی کے مراکز، مواصلاتی مراکز، پل، شہریوں کے رہائشئ مکانات، تجارتی مراکز، کارخانے، کمپنیوں کے دفاتر اور گاڑیاں شامل ہیں۔