.

دمشق شہر 284 چیک پوسٹوں میں گھری کھلی جیل میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر مقام دمشق میں امن وامان کے قیام کے لیے بنائی گئی چیک پوسٹوں نے شہر کو کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں دارالحکومت دمشق میں قائم ان چیک پوسٹوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دمشق کے اندرونی راستوں پر 284 چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ ان میں بعض چیک پوسٹیں، فوج، بعض پولیس اور کچھ بشارالاسد کی حامی ملیشیاؤں کے کنٹرول میں ہیں۔

’صوت العاصمہ نیٹ ورک‘ نے تین ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد ان چیک پوسٹوں کی تفصیلات جمع کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے بیرونی راستوں پر 45 چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ یہ سب شام کی خفیہ سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔ 215 چیک پوسٹیں فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ 56 چیک پوسٹوں کا کنٹرول فلسطین برانچ کے پاس ہے، 30 چیک پوسٹیں فوج کے بریگیڈ 4 اور ری پبلیکن گاڑز جب کہ تین چیک پوسٹیں شام کی نیشنل آرمی کے زیرکنٹرول ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 50 چیک پوسٹیں مقامی اور غیرملکی شیعہ ملیشیاؤں کے زیرانتظام ہیں۔ ان میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ، ابو الفضل العباس، حراس المقام، ذو الفقار، امام الحسین قومی دفاع فورس، پیپلز امن کمیٹی، کتائب البعث، عرب قومی فورس اور البستان گروپ بھی کئی چیک پوسٹوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

حزب اللہ کی چیک پوسٹیں

شام کے دارالحکومت دمشق کو جیل میں تبدیل کرنے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کلیدی کردار ہے۔’امن المقام، المحیسنہ، عقربا روڈ، سیدہ زینب روڈ اور کئی دوسری چیک پوسٹوں پر حزب اللہ کا کنٹرول ہے۔ ان چیک پوسٹوں پر خفیہ کیمرے بھی نصب ہیں اور وہاں سے گذرنے والے پیدل اور سوار شہریوں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔

پرانے دمشق شہر کی کالونیوں میں بھی بڑی تعداد میں چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ ان چیک پوسٹوں کا کنٹرول بھی مقامی اور غیرملکی شیعہ تنظیموں کے پاس ہے۔

اہم سیکیورٹی چیک پوسٹیں درج ذیل ہیں۔

نہر کالونی کی عائشہ چیک پوسٹ، المجتھد چیک پوسٹ، المیسات، اللوان، الربوۃ، شاہراہ بغداد چیک پوسٹ، الدحداح چیک پوائنٹ، الفیحاء، المزۃ، جامع الحسن، الجابیہ، برزۃ دمر، البرکۃ، مدحت پاشا چیک پوسٹ، البھیہ، دوار الجوزۃ، قدسیا، وادی المشاریع، ٹاؤن سینٹر، الفردوس اور مرکزی پل چیک پوسٹ شامل ہیں۔

ان تمام چیک پوسٹوں اورتلاشی کے لیے بنائے گئے دوسرے مقامات پر متعین شامی فوجی اور ملیشیاؤں کے عناصر گذرنے والے شہریوں اور ان کے سامان کی نہ صرف تلاشی لیتے ہیں بلکہ محض شبے کی بنیاد پر کسی بھی شہری کو اٹھا کر حراستی مراکز میں ڈال دیا جاتا ہے۔