.

دمشق میں پانی کے ذخائر اسد رجیم نے خود تباہ کیے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں شامی فوج نے خود ہی بمباری کر کے دمشق میں پانی کے ذخائر تباہ کردیے تھے جس کے نتیجے میں 55 لاکھ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے تھے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دمشق میں پانی کے ذخائر کو تباہ کرنے میں مسلح عسکری گروپوں کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ جتنے بھی ثبوت ملے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے آبی وسائل پر تباہ کن بمباری کی جس کے نتیجے میں پانی جمع کرنے کے تمام وسائل تباہ ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ دمشق کے شمال مغربی نواحی علاقے وادی البردی پر شامی اپوزیشن گروپوں نے 2012ء میں کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ گزشتہ برس دسمبر میں شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے وادی البردی میں وحشیانہ بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں وادی میں پانی کے ذخائر تباہ ہوگئے تھے۔

وادی البردی میں آبی وسائل تباہ کرنے کی تحقیقات کے لیے برازیلی تحقیق کار پاؤلو بینیرو کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ گذشتہ روز اس تحقیقاتی کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی البردی میں پانی کے ذخائر تباہ کرنے اور پانی کو آلودہ کرنے میں کسی مسلح گروپ کا کوئی کردار نہیں۔ تاہم وادی البردی میں پانی کے ذخائر تباہ کرنے میں خود اسد رجیم ملوث ہے۔

رپورٹ میں 21 جولائی سے 28 فروری 2017ء کے درمیانی عرصے کے واقعات جو شامل کیا گیا ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں شامی فوج کی اس بمباری کا بھی ذکر ہے جس کے نتیجے میں 14 امدادی کارکن جاں بحق ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک سابقہ رپورٹ میں وادی البردی میں پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے واقعے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔