.

دمشق: ایوان عدل میں خود کش بم دھماکا ،30 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں مرکزی ایوانِ عدل کے اندر خود کش بم دھماکے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے دمشق کے علاقے ربوہ میں ایک ریستوراں میں ایک اور خودکش بم دھماکے کی اطلاع دی ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

دمشق کے پولیس سربراہ محمد خیر اسماعیل نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس حملہ آور نے بدھ کی دوپہر ایک بج کر بیس منٹ پر ایوان عدل کے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس نے شاٹ گن اور دستی بم بھی پکڑ رکھے تھے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس کو سکیورٹی اہلکاروں نے داخلی دروازے پر روکا اور اس سے ہتھیار لینے کے بعد اس کی تلاشی لینے لگے تو اس دوران میں وہ عمارت کے اندر گھس گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دمشق کا ایوان عدل مشہور بازار حمیدیہ کے نزدیک واقع ہے۔

شام کے اٹارنی جنرل احمد آل سید نے ،جو بم دھماکے کی جگہ سے چند میٹر کی دوری پر اپنے دفتر میں موجود تھے،سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سربراہ کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے مزید یہ کہا ہے کہ سکیورٹی محافظوں نے اس کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے ایوان عدل میں موجود وکلاء ، جج صاحبان اور بے گناہ عام لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے خود کش بم دھماکے میں تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اخباریہ ٹی وی چینل نے ربوہ کے علاقے میں دوسرے خودکش بم دھماکے کے بارے میں یہ اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کا پیچھا کیا تھا لیکن وہ ایک ریستوراں میں گھسنے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے وہاں اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔اس بم دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے دمشق میں ان دونوں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس سے پہلے گذشتہ ہفتے کے روز شامی دارالحکومت میں مشہورمزارات کے نزدیک دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے۔ان میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور شام میں ماضی میں القاعدہ سےو ابستہ جنگجو تنظیم جبہۃ فتح الشام نے ان دونوں بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔