.

فلسطینی ڈاکٹر کا 2009ء کی غزہ جنگ میں شہید بچیوں کے انصاف کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فلسطینی ڈاکٹر نے اسرائیل کی 2009ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران میں شہید ہونے والی تین بیٹیوں اور ایک بھتیجی کا انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ چاروں فلسطینی بچیاں جنوری 2009ء میں شہید ہوئی تھیں اور ڈاکٹر عزالدین ابوالعیش نے ان کی ناگہانی موت پر اسرائیل سے ہرجانے کے حصول کے لیے مقدمہ دائر کررکھا ہے۔اس کی آج بدھ سے سماعت شروع ہورہی ہے۔

ڈاکٹر ابوالعیش نے مقبوضہ بیت المقدس میں اس مقدمے کی سماعت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے لیے یہ ایک جذباتی لمحہ ہے لیکن میں آپ سب لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں یہاں اپنے دفاع کے لیے نہیں آیا ہوں بلکہ انصاف اور امید کی وکالت کے لیے آیا ہوں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اس المیے اور ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ،اس سب کے باوجود میں اپنے پیارے بچوں کی وجہ سے موت سے زندگی کی جانب لوٹنے کے قابل ہوگیا تھا‘‘۔ڈاکٹر ابوالعیش نے منگل کے روز اسرائیلی پارلیمان کی ایک کمیٹی کے ارکان کے روبرو بھی اپنا موقف بیان کیا تھا۔

ڈاکٹر ابوالعیش غزہ میں بچیوں کی شہادت کے وقت ایک اسرائیلی اسپتال میں کام کرتے تھے۔وہ عبرانی زبان میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ معاوضے میں ملنے والی تمام رقم کو خواتین کی تعلیم کے لیے وقف ایک خیراتی ادارے کو دے دیں گے۔

یادرہے کہ انھوں نے اپنی تینوں بچیوں کی شہادت کے واقعے کے فوری بعد ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن سے گفتگو کی تھی جس کی وجہ سے اس واقعے کی پوری دنیا میں تشہیر ہوئی تھی۔انھوں نے تب چلاتے ہوئے کہا تھا:’’ وہ لڑکیاں تھیں،صرف لڑکیاں،ان پر کیوں بمباری کی گئی اور انھیں جان سے مار دیا گیا ہے‘‘۔ ان تینوں فلسطینی بچیوں کی عمریں بیس ، چودہ اور تیرہ سال تھیں۔

اسرائیلی فوج نے تحقیقات کے بعد اعتراف کیا تھا کہ اس کے فوجی ان بچیوں کی اموات کے ذمے دار ہیں اور انھوں نے حماس کے کارکنوں کے شُبے میں انھیں نشانہ بنایا تھا۔

تاہم وکلائے صفائی نے اسرائیلی فوجیوں کے دفاع میں نئی من گھڑت کہانی گھڑی ہے اور عدالت میں نئی دستاویزات پیش کی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے جسموں سے ملنے والے اجزاء سے یہ پتا چلا تھا کہ ان کے مکان میں ایسا دھماکا خیز مواد موجود تھا جو اسرائیلی فوج نے استعمال ہی نہیں کیا تھا۔

لیکن ڈاکٹر ابوالعیش نے ایسے دعووں کو غیر اخلاقی ،بد نیتی پر مبنی اور پاگل پن قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

اپنی بچیوں کی شہادت کے بعد ڈاکٹر ابوالعیش اپنے باقی بچوں کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور وہاں انھوں نے ’’ میں نفرت نہیں کروں گا‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔اس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مصالحت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

انھوں نے اپنی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ ہم یہاں بسام ،مایار ،آیا اور نور کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ آپ زندہ ہیں اور جب تک ہم زندہ ہیں ،ہماری سانسیں باقی ہیں،ہم آپ کو زندہ رکھیں گے‘‘۔

انھوں نے سنہ 2010ء میں اسرائیلی عدالت میں ہرجانہ دلا پانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ان کی پچیس سالہ بیٹی شطحہ نے اس بات پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے کہ وہ لوگ ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔ شطحہ اسرائیلی فوج کے حملے میں بچ گئی تھیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ان (اسرائیلی فوج) کا پیچھا جاری رکھیں گے اور ان پر یہ زور دیتے رہیں گے کہ وہ واقعے کی ذمے داری قبول کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المیے کبھی رونما نہ ہوں‘‘۔