.

کیا بشار الاسد الاذقیہ میں ایرانی فوجی اڈے کے قیام پر آمادہ ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے رواں ماہ کی 13 تاریخ کو اعلان کیا کہ وہ شام کے ساحل پر الاذقیہ صوبے میں کوئی عسکری اڈہ قائم کرنے کا "ارادہ نہیں رکھتا ہے"۔

یہ بات ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے سیاسی معاون جنرل رسول سنائی راد کی زبانی سامنے آئی جن کے نزدیک اس موضوع پر تمام تر گفتگو "میڈیا کا ہنگامہ" ہے۔ سنائی راد کے مطابق شام کا لاذقیہ صوبہ بحرِ روم تک پھیلے ہونے کے سبب تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ تیرہ مارچ کو سامنے آنے والے بیان میں ایرانی ذمے دار کا کہنا تھا کہ روس کا لاذقیہ میں فوجی اڈہ ہے۔

چھٹا معاہدہ.. اعلان کے بعد چھائی خاموشی

اس امر کو پورے دو ماہ گزر چکے ہیں جب بشار حکومت کی جانب سے چھٹے معاہدے کے طے پائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ بحر روم پر واقع ایک شامی بندرگاہ میں ایران کی "سرمایہ کاری" سے متعلق ہے۔ بشار حکومت کے وزیراعظم عماد خمیس نے 17 جنوری کو پانچ معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کی رُو سے ایران کو شام میں موبائل فون کا لائسنس، سرمایہ کاری کا لائسنس اور شام کے صوبے حمص میں فاسفیٹ کے لیے کھدائی کا پرمٹ فراہم کیا جانا تھا۔

اس کے علاوہ ایران کو شامی اراضی میں دس کروڑ مربع میٹر کا رقبہ دیا جائے گا۔ اس میں نصف رقبہ تیل کے شعبے میں اُس بندرگاہ سے متعلق ہوگا جس میں ایران شام کے ساحلوں پر سرمایہ کاری کرے گا۔

رواں برس سترہ جنوری کو ایرانی صدر کے نائب اسحاق جہانگیری کے بیان کے مطابق چھٹا معاہدہ بحر روم پر ایک شامی بندرگاہ میں ایران کی "سرمایہ کاری" سے متعلق ہے۔ شامی وزیراعظم کی جانب سے بھی اس امر کی تصدیق کی گئی تھی۔ تاہم اب دو ماہ گزرنے کے باوجود جانبین کی طرف سے اس بندرگاہ کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

بشار ایران کو بحری عسکری اڈے کے قیام کا حق دینے پر آمادہ؟

لبنانی تنظیم حزب اللہ کے زیر انتظام روزنامے "الاخبار" نے بدھ کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ذرائع کے حوالے سے شام میں بحر روم کے ساحل پر مبینہ ایرانی بندرگاہ سے متعلق مختلف معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم اخبار نے وہاں ایران کے کسی فوجی اڈے کے قیام کے ارادے کی تردید نہیں کی ہے۔

اس سلسلے میں روسی میڈیا نے منگل کے روز شامی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ شامی حکومت کا سربراہ بشار الاسد ایران کو ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کا حق دینے پر آمادہ ہوچکا ہے ، یہ اڈہ "حمیمیم" کے فضائی اڈے سے زیادہ دوری پر نہ ہوگا جہاں ستمبر 2015 سے شام میں مداخلت کے وقت سے روسی فضائیہ تعینات ہے۔

اس سے قبل روسی ذرائع نے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے ماسکو میں ولادیمر پوتن کے ساتھ آخری ملاقات میں شام کے ساحل پر ایرانی فوجی اڈے اور وہاں ایک ایرانی بندرگاہ کے موضوع پر بات کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے پوتن کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو دیے جانے والے بیان میں باور کرایا تھا کہ ایران شام میں اپنی عسکری طاقت کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے جس میں شام کے ساحل پر ایک بندرگاہ کا قیام بھی شامل ہے۔ اس سے قبل نومبر 2016 میں ایرانی مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل محمد باقری نے اپنے ایک بیان میں باور کرایا تھا کہ ایران شام اور یمن میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

بشار حکومت کو درپیش ایندھن کی قلت.. ایران روس پنجہ آزمائی کا نتیجہ!

بشار الاسد کی جانب سے ایران کو فوجی اڈہ قائم کرنے کا حق دینے کے حوالے سے روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ شامی صدر "روسی آمادگی" کے بغیر ایسا اقدام اٹھا سکیں۔

شامی حکومت کی جانب سے ایرانی نظام کے ساتھ پانچ معاہدوں پر دستخط کے بعد کے عرصے میں بشار حکومت کو ایندھن کے اندر سب سے بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قلت کی اصل وجوہات واضح نہیں ہو سکی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت کے نزدیک بشار حکومت کے پاس ایندھن کی قلت کی صورت حال ایران اور روس کے درمیان ایک نوعیت کی پنجہ آزمائی ہے جس میں ہر فریق یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتا تو بشار حکومت کا سقوط ہوچکا ہوتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے ایندھن کی یہ شدید قلت شام میں ایران کی مبینہ بندرگاہ کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

ادھر روس نے شام میں بحر روم کے ساحل پر ایران کی جانب سے بندرگاہ قائم کرنے کے منصوبے کے حوالے سے کسی سرکاری موقف کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم سارا روسی میڈیا اس سلسلے میں خبر دیتے ہوئے شام میں ایرانی بندرگاہ کی "تعمیر" کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ برخلاف بشار حکومت کے میڈیا کے جو اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے شام میں سمندری بندرگاہ کے منصوبے میں ایران کی "سرمایہ کاری" کے لفظ پر اکتفا کرتا ہے۔