.

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکی شہید

شہیدہ پر یہودی فوجیوں کو گاڑی تلے کچلنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے قریب ایک فلسطینی لڑکی کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلسطینی لڑکی کو اس وقت گولی ماری گئی جب اس نے اپنی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑے اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر چڑھا دی تھی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے مبینہ حملہ آورلڑکی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یکم اکتوبر 2015ء کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج سیکڑوں فلسطینیوں کو مزاحمتی کارروائیوں کے الزامات کے تحت گولیاں مار کر شہید کر چکی ہے۔ کئی فلسطینیوں کو اس شبے میں گولیاں ماری گئیں کہ وہ اپنی گاڑی سے اسرائیلی فوجیوں کو کچلنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔