.

امریکا کو مطلوب حزب اللہ کا مالی معاون لبنانی کاروباری مراکش میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایک کاروباری شخصیت قاسم تاج الدین کو مراکشی حکام نے ملک کے دوسرے بڑے شہر کیسا بلانکا میں گرفتار کر لیا ہے۔قاسم تاج الدین لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو کروڑوں ڈالرز مہیا کرنے کے الزام میں امریکا کو مطلوب ہیں۔

اس لبنانی کے وکیل نے جمعرات کو اپنے موکل کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس کو گنی سے بیروت کے لیے سفر کے دوران کیسا بلانکا میں گذشتہ اتوار کو مراکشی حکام نے گرفتار کرلیا تھا۔

وکیل شبلی ملاط نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل کے ذریعے سوالوں کے جواب میں بتایا ہے کہ ’’ اب ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ امریکی حکام نے ان کے موکل کی بے دخلی کا حکم جاری کررکھا ہے‘‘۔

ملاط نے مزید بتایا ہے کہ ’’مراکش میں قاسم تاج الدین کے دفاع کے لیے ایک اور وکیل مقرر کیا گیا ہے۔اس نے دارالحکومت رباط کے نزدیک واقع سیل میں جیل میں ان سے ملاقات کی ہے۔وہاں ان کے موکل کی صحت بہتر ہے اور ان سے مناسب سلوک کیا جارہا ہے‘‘۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ قاسم تاج الدین حزب اللہ کا اہم مالی معاون ہے۔ امریکا نے اس کو سنہ 2009ء میں عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اس کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔