.

موصل آپریشن : عراقی فورسز کی مسجد الکبیر کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پولیس کے مطابق سرکاری سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز موصل شہر کی جامع مسجد الکبیر کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ یہ پیش رفت اولڈ سٹی تک جانے والے پُل پر عراقی افواج کے کنٹرول حاصل کرنے بعد سامنے آئی ہے۔ اولڈ سٹی کے علاقے پر داعش تنظیم کا قبضہ ہے۔

وفاقی پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پولیس فورسز اس وقت مسجد الکبیر سے صرف 800 میٹر کے فاصلے پر ہیں۔

ادھر فوجی ذرائع کے مطابق داعش تنظیم نے مغربی موصل کے علاقے بادوش میں مختلف ہتھیاروں اور گولہ بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے عراقی افواج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان لڑائی جاری ہے جب کہ شدت پسند شام کی جانب فرار ہونے کے واسطے ممکنہ راستوں کی تلاش میں ہیں۔ عراقی فورسز نے داعش کے جنگجوؤں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے پہلے ہی بادوش کی جانب سے موصل اور شام کے درمیان راستہ منقطع کر دیا ہے۔

اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے داعش کے مسلح ارکان کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد موصل کے اولڈ سٹی پر دھاوا بول دیا۔

اولڈ سٹی کا علاقہ مغربی موصل کے قلب میں واقع ہے۔ اسی علاقے میں "جامع مسجد النوری الکبیر" بھی واقع ہے جہاں جولائی 2014 میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے "دولتِ خلافت" کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب عراقی عسکری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹریٹ نے بدھ کے روز مغربی موصل میں فضائی حملوں کے دوران داعش کے 3 کمانڈروں کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا ہے جن میں ایک عسکری ذمے دار بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ عراقی فورسز نے موصل شہر کو داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی معاونت سے ایک فوجی آپریشن 17 اکتوبر 2016 کو شروع کیا تھا۔ تقریبا تین ماہ کی کارروائیوں کے بعد عراقی افواج موصل کا مشرقی حصہ مکمل طور پر آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئیں۔

موصل کے مغربی حصے کو آزاد کرنے کے لیے عراقی فورسز کے آپریشن کا آغاز 19 فروری سے ہوا۔ اس دوران اب تک متعدد علاقے ، نواحی دیہات اور شہر کے اندر تزویراتی ٹھکانوں کے علاوہ شہر کے ہوائی اڈے اور ایک قریبی فوجی اڈے کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔