.

اسرائیلی طیاروں کے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو تین فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اپنے طور پر ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اُس کے فضائی طیاروں نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شام میں کئی اہداف کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ فوجی بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس بم باری کے جواب میں شام کی اراضی سے داغا جانے والا ایک میزائل اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق رات کے دوران وادی اردن میں انتباہی سائرن بھی سنے گئے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے واضح کیا کہ ایک اسرائیلی لڑاکا طیارے کو "سام" نوعیت کے میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اسے ایگوار کے علاقے میں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب شام میں بشار حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے چار جنگی طیارے شام کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور انہوں نے تدمر کے نزدیک ایک عسکری ٹھکانے کو نشانہ بنایا.. ان میں ایک طیارے کو مار گرایا گیا جب ایک دوسرے طیارے کو نقصان پہنچا۔ تاہم اسرائیلی فوج کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ طیاروں نے شام میں اپنے اہداف پر حملے کیے اور اس کے بعد اپنے اڈوں پر واپس لوٹ آئے۔

اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی فوج نے راکٹ اور میزائل کے حوالے سے سائرن بجائے تھے جس کے بعد مغربی کنارے میں یہودی بستیوں میں دھماکے سُنے گئے۔

کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام کی اراضی میں کئی حملے کیے جن میں بعض کارروائیوں میں وہاں حزب اللہ ملیشیا کے ٹھکانوں اور اس کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا گیا۔