.

حلب: روسی طیاروں نے مسجد پر قیامت ڈھا دی، دسیوں نمازی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنگ سے تباہ حال شہر حلب میں روسی فوج کے جنگی طیاروں نے ایک مسجد میں نماز ادا کرنے والے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی جس کے نتیجے میں دسیوں نمازی شہید اور زخمی ہوگئے۔

انسانی حقوق کے ادارے’شامی آبزرویٹری‘ کے مطابق یہ واقعہ شمالی شام میں باغیوں کے زیر انتظام ’الجینہ‘ علاقے میں اس وقت پیش آیا جب بمبار طیاروں نے ایک مسجد پر فضائی حملہ کردیا۔ بمباری کے نتیجے میں 42 نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

برطانیہ سے شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ جب یہ حملہ ہوا اس وقت مسجد میں عشا کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ تنظیم کے مطابق مارے جانے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ فضائی کارروائی کس کی جانب سے کی گئی ہے لیکن روسی اور شامی طیارے اس علاقے میں پرواز کرتے رہتے ہیں۔

تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے جنگی طیاروں نے نماز عشاء کے وقت الجینہ قصبے پر وحشیانہ بمباری کی۔ بمباری کے دوران کئی بم ایک مسجد میں نماز ادا کرتے مسلمانوں پر آگرے جس کے نتیجے میں نمازیوں کا قتل عام ہوا ہے۔ روسی جنگی طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گذشتہ روز ہی دمشق میں ایک عدالت کی عمارت میں خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد مارے گئے تھے۔