.

عقوبت خانوں میں اسدی جلادوں کے انسانیت سوز مظالم کی 7 لاکھ دستاویزات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کے جنگی جرائم کے بارے میں ہر آنے والے دن کوئی نئی رپورٹ اور دستاویز سامنے آتی ہے۔ حال ہی میں ایک دستاویزی فلم تیار کی گئی ہے جس میں شام میں بشار الاسد کے جلادوں کے قائم کردہ عقوبت خانوں میں قیدیوں پر تشدد اور ان کے قتل عام کی سات لاکھ سے زاید مستند دستاویزات شامل کی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ دستاویزی فلم رواں ہفتے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے فورم پر منعقدہ عالمی فلمی میلے میں پیش کی جائے گی۔

دستاویزی فلم کی تیاری میں اسد رجیم کے عقوبت خانوں کے اندر سے لیک ہونے والی معلومات، تصاویر، انسانی حقوق کے مندوبین اور عالمی ماہرین کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزی فلم میں شامل کی گئی تصاویر میں اسدی جیلوں کے اندر سے لی گئی 55 ہزار تصاویر بھی شامل ہیں جن میں قیدیوں پر ہولناک تشدد کے مظاہر دکھائے گئے ہیں۔ فلم میں پیش کی گئی تصاویر اور معلومات کا ایک بڑا حصہ شامی فوج کے فورینزک میڈیسن کے شعبے وابستہ مفرور اہلکار کے کیمرے سے ملی ہیں۔

شامی حراستی مراکز کے بارے میں دستاویزی فلم میں بیان کردہ حقائق درست اور مستند معلومات کا خزانہ جس نے حراستی مراکز میں ڈالے گئے افراد پر اسدی جلادوں کے ہاتھوں انسانیت سوزمظالم پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

عالمی ماہر قانون اور اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے سابق تفتیش کار ولیم ویلی جو اقوام متحدہ کے زیراہتمام یوگو سلاویہ اور روانڈا میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ شام کے حراستی مراکز میں انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادو شمار اسد رجیم کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم کے مقدمات کے قیام کے لیے کافی ہیں۔