.

ماٹس کا الجبیر سے اُن کے قتل کے ایرانی منصوبے سے متعلق مذاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی پینٹاگون کے صدر دفتر میں امریکی عہدے داروں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر امریکی وزیر دفاع جیمس ماٹس نے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ سفارتی انداز سے مذاق کیا جس پر وہاں موجود افراد یک دم ہنس پڑے۔

ماٹس نے چند سال قبل (جب الجبیر واشنگٹن میں سعودی سفیر تھے) قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش یاد دلاتے ہوئے ہنس کر کہا "خوش آمدید.. آپ کو زندہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی.. ورنہ ایرانیوں نے تو آپ کے قتل کی کوشش کر ڈالی تھی"۔ اس موقع پر ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی عہدے داران بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ سعودی وزیر خارجہ کو 2011 میں ایران کی جانب سے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جب وہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر کی ذمے داری انجام دے رہے تھے۔

اُس وقت مذکورہ کوشش میں ایرانی نظام کا ملوث ہونا ثابت ہو گیا تھا۔ نیویارک میں وفاقی عدالت نے سازش میں سرگرم دو افراد منصور ارباب سیار اور غلام شکوری کے ناموں کا انکشاف بھی کیا تھا۔ سیار کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ شکوری ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک افسر ہے۔ (وہ ان دنوں ایران میں موجود ہے اور امریکی عدلیہ کو مطلوب ہے).

اس سے قبل بھی ایران سعودی سفارت کاروں کے خلاف قتل کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

1989- 1990 میں تھائی لینڈ میں 4 سعودی سفارت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔

2011 میں کراچی میں سعودی سفارت کار حسن القحطانی کے قتل میں ایرانی حکومت ملوث تھی۔

2016 میں سعودی وزارت خارجہ میں خلیج عربی کے امور کے وزیر مملکت ثامر السبہان کو ہلاک کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ثامر اُس وقت عراق میں سعودی عرب کے سفیر تھے۔ یہ کوشش ایران کی ہدایت پر عراقی فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی جانب سے کی گئی۔