.

اسرائیل مخالف رپورٹ ہٹانے سے اقوام متحدہ کی کمزوری عیاں ہوگئی: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی حزب اللہ تحریک کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کو انٹرنیٹ سے ہٹائے جانے کے فیصلے کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس سے عالمی ادارے کی کمزوری سب پر عیاں ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل اور اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا ( ای ایس سی ڈبلیو اے) کی ایگزیکٹو سیکرٹری ریما خلف اسرائیل کے فلسطینیوں سے نسل پرستانہ اور انسانیت سوز سلوک سے متعلق اس رپورٹ کے انٹرنیٹ پر مبینہ غیرمجاز اجراء کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں۔انھوں نے یہ فیصلہ عالمی ادارے کے طاقتور رکن ممالک کے رپورٹ کو ویب سائٹ سے ہٹانے کے لیے دباؤ اور سیکریٹری جنرل کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کے بعد کیا ہے۔

حسن نصراللہ نے ایک نشری تقریر میں ان کے استعفے کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’’اس واقعے سے ہمیں اس سچائی کی یاددہانی ہوگئی ہے کہ یہ عالمی ادارہ کمزور ہے اور امریکا اور اسرائیل کے آگے یرغمال بن چکا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کوئی موقف اختیار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ہے اور رپورٹ پر اس کی پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمارے خطے میں انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرسکتی ہے‘‘۔

تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی انتظامی کمیٹی کی رکن حنان عشراوی نے بھی اقوام متحدہ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور رپورٹ کو دوبارہ ویب سائٹ پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا میں اٹھارہ عرب ممالک شامل ہیں۔اس نے گذشتہ بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر مذکورہ رپورٹ شائع کی تھی اور یہ کہا تھا کہ عالمی ادارے نے پہلی مرتبہ واضح اور دوٹوک انداز میں اسرائیل پر یہ الزام عاید کیا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف ایک نسل پرستانہ نظام نافذ کررکھا ہے اور فلسطینی عوام سے اجتماعی طور پر ناروا امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔

اسرائیل نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی اور اس رپورٹ کو نازی دور کی یہود مخالف پروپیگنڈا اشاعت ’’دیر اسٹرمر‘‘ کے مشابہ قرار دیا تھا۔اسرائیل کے پشتیبان امریکا نے بھی اس رپورٹ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس کو ویب سائٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نِکی ہیلی نے کہا تھا کہ اب ریما خلف کا استعفیٰ ہی مناسب فیصلہ ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن کا کہنا تھا کہ ’’یہ استعفیٰ تو بہت پہلے آجانا چاہیے تھا۔اسرائیل مخالف سرگرمیوں کا اقوام متحدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

نِکی ہیلی کا کہنا تھا کہ ’’ اقوام متحدہ کے تحت اداروں کو غلط اور متعصبانہ روش کو ختم کرکے بہتر انداز میں کام کرنا چاہیے۔میں سیکریٹری جنرل کے فیصلے کو سراہتی ہوں جنھوں نے اس (رپورٹ) سے لاتعلقی ظاہر کردی ہے‘‘۔