.

لبنانی بنک کے گورنر کے جانشین حزب اللہ کے اتحادی کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مرکزی بنک کے موجودہ گورنر ریاض سلامہ کا شمار ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مخالفین میں ہوتا ہے۔ چند ہفتے قبل ریاض سلامہ اس وقت ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں آئے جب انہوں نے حزب اللہ کی مقرب کوئی ایک سو اہم شخصیات کے اکاؤنٹ منجمد کردیے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق حزب اللہ کے مخالف سمجھے جانے والے بنک کے گورنر کی مدت ملازمت 31 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ یہاں پر کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ریاض سلامہ ایک چوراہے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا وہ اپنے عہدے استعفیٰ دے دیں گے؟ اگر وہ سبکدوش ہوئے تو ان کی جگہ حزب اللہ کا کوئی حامی شخص یہ اہم عہدہ اپنے ہاتھ میں لے یا یہ کہ ریاض سلامہ اگلے چھ سال کے لیے لبنان کے مرکزی بنک کے گورنر کے طورپر خدمات انجام دیتے ہوئے حزب اللہ کو’نکیل‘ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھیں گے؟۔

حال ہی میں ریاض سلامہ کی صدر میشل عون کے ساتھ متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد لبنانی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ دونوں رہ نماؤں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ریاض سلامہ کی طرف سے بھی صدر کے ساتھ اختلافات کے اشارے ملے ہیں مگر ایوان صدر کی طرف سے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا گیا۔

ریاض سلامہ کو لبنان کے مرکزی بنک کا گورنر ہی نہیں بلکہ لبنان معیشت کا ’معمار نو‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔
لبنان کی سیاسی قوتیں بھی گورنرکی ممکنہ تبدیلی یا ملازمت کی تجدید پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ لبنانی ذرائع ابلاغ نے بھی اس ایشو پر رپورٹس جاری کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ریاض سلامہ کے ممکنہ جانشینوں کے بارے میں ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ لبنانی مرکزی بنک کےگورنروں کا تعارف درج ذیل ہے۔

منصور بطیش

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی طور پرحاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ریاض منصور کی سبکدوشی کی صورت میں ’فرانس بنک‘ گروپ کے بنکار منصور بطش کا نام لیا جا رہا ہے۔ بطش لبنان میں بنکار یونین کی اسٹڈی کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ صدر عون کے بھی ’فیورٹ‘ ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ مشعل عون منصور بطش کو لبنان کے مرکزی بنک کا گورنر مقرر کرنے کے حامی ہیں۔

آلان بیفانی

ریاض سلامہ کے ممکنہ جانشینوں میں ایک اہم نام ٓالان بیفانی کا نام بھی شامل ہے۔ آلان بیفانی میں نام بھی لیا جاتا ہے۔ انہں لبنانی وزارت مالیات کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے بھی تجویز کیا جا چکا ہے۔ ان کا شمار بھی جنرل میشعل عون مقربین میں ہوتا ہے۔ سنہ 1997ء میں بیروت بلدیہ کے انتخابات میں وہ عون کی حمایت کرچکے ہیں۔

کھلا آپشن

لبنان کے مرکزی بنک کے نئے گورنر کے بارے میں کئی دیگر قیاس آرائیاں بھی کردش میں ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ بنک کے گورنر کی تعیناتی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔ چند ناموں پر غور کیا جا رہا ہے کہ صدر عون اپنی مرضی سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے بجائے اس آپشن کو حکومت کے سامنے بھی رکھیں گے۔ صدر اس لیے بھی نئے گونر کی تعیناتی میں کوئی فوری فیصلہ کرنے سے گریز کررہے ہیں تاکہ نیا گونر ملک کے لیے اقتصادی بوجھ نہ بنے اور مرکز بنک پر کسی گروپ کی وجہ سے عاید ہونے والی پابندیوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرسکے۔