.

موصل : البغدادی کی مسجد عراقی فورسز کی پہنچ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وفاقی پولیس کے کمانڈر میجر جنرل شاكر جودت نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ پولیس فورسز موصل میں جامع مسجد النوری الکبیر سے بہت قریب پہنچ چکی ہیں جو شہر میں سرکاری عمارتوں کے آزاد کرائے جانے کے بعد دوسرا اہم ترین تزویراتی مقام ہے۔

جودت کے مطابق فضائیہ کے طیاروں نے علاقے کے اطراف داعش تنظیم کی دفاعی لائن کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے داعش تنظیم کی گولہ بارود سے بھری 233 گاڑیوں کو تباہ کر دیے جانے کی تصدیق کی۔

شاکر جودت کا کہنا ہے کہ پولیس نے موصل کے علاقے باب السجن میں داعش کے الحسبہ کے دفتر کے ذمے دار "حسام شيت مجيد شيت الجبوری" کو گرفتار کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ عراقی حکام کی جانب سے جاری متعدد تصاویر میں وفاقی پولیس کو مسجد النوری کے نزدیک دکھایا گیا ہے جہاں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے 2014 کے وسط میں موصل پر قبضے کے بعد پہلا خطبہ دیا تھا۔ تصاویر میں مسجد کا تاریخی خم دار مینار بھی نظر آرہا ہے۔

موصل کا مغربی حصہ گنجان آبادی کے سبب نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے سبب عراقی سکیورٹی فورسز کو مغربی جانب کے بقیہ حصے داعش سے واپس لینے کی کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

مغربی موصل میں جاری لڑائی نے اس حصے کی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ "العربیہ" نیوز چینل نے ہفتے کے روز سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مغربی موصل میں معرکوں کے سبب ابھی تک 1.73 لاکھ افراد علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کے روز انٹرنیشنل امیگریشن آرگنائزیشن نے اعلان کرچکی ہے کہ موصل کے مغربی حصے کو واپس لینے کے لیے عراقی فورسز کے حملے کے بعد سے اب تک تقریبا ایک لاکھ عراقی مغربی موصل سے کوچ کر چکے ہیں۔