.

شامی فوج کا دمشق کے علاقوں پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فورسز نے دارالحکومت دمشق کے باغیوں کے زیر قبضہ آنے والے بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شامی باغیوں نے دمشق کے قلعہ نما علاقے جوبر اور اس کے نواح میں واقع عمارتوں پر ہفتے کی شب اچانک حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا۔

جوبر میں گذشتہ دو روز کی لڑائی میں طرفین کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔یہ علاقہ دمشق قدیم کی فصیل سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یہاں باغی جنگجوؤں نے زیر زمین سرنگوں کے ذریعے گھس کر دھاوا بولا تھا اور خودکش بم دھماکوں کیے تھے جس کے بعد انھوں نے بہت سی عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ لڑائی میں 26 فوجی اور حکومت نواز مسلح افراد جبکہ 21 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔فریقین کے درمیان سوموار کو بھی لڑائی جاری تھی۔

شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ باغی گروپوں نے اس طرح دارالحکومت میں ایک بھرپور حملے کے ساتھ در اندازی کی ہے۔شام میں القاعدہ کی شاخ کی قیادت میں مختلف جنگجو گروپوں اور ایک آزاد گروپ فیلق الرحمان نے مشترکہ طور پر یہ حملہ کیا تھا اور ایک مرحلے پر شامی فوج کو بالکل پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔

باغیوں کا اگرچہ تھوڑے ہی وقت کے لیے جوبر پر قبضہ رہا ہے لیکن یہ ان کی منتشر ہوتی عسکری قوت کے دوبارہ مجتمع ہونے کا بھی مظہر ہے کیونکہ انھیں حالیہ مہینوں کے دوران میں ملک کے دوسرے علاقوں میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور صدر بشارالاسد کے تحت فوج انھیں دمشق کے علاقوں سے نکال باہر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

شامی فوج نے جوبر اور قابون کے علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور ان دونوں کے سنگم پر اتوار کو شامی باغیوں اور فوج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی۔ایک باغی دھڑے احرارالشام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس علاقے کو حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے آزاد کرالیا ہے۔

تاہم شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک بے نامی فوجی عہدہ دار کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ دہشت گردوں نے جن علاقوں میں دراندازی کی تھی ،فوج نے ان تمام کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ دمشق میں روسی سفیر الیگزینڈر کنشاک نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ جھڑپوں کے دوران میں ایک گولہ سفارت خانے کی عمارت کو بھی آ لگا تھا۔

شامی فوج کے مرکزی میڈیا کے مطابق فضائیہ نے جوبر اور اس کے نزدیک واقع علاقوں پر پچیس فضائی حملے کیے ہیں۔ادھر لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر انتظام المنار ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ری پبلکن گارڈز نے بھی باغی گروپوں کے خلاف جوابی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔