.

شام میں صہیونی فوج کے فضائی حملے پر ماسکو میں اسرائیلی سفیر سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت خارجہ نے ماسکو میں متعیّن اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے شام کے تاریخی شہر تدمر ( پلمائرا) کے نزدیک اسرائیلی فوج کے فضائی حملے پر احتجاج کیا ہے۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے سوموار کو وزارت کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی سفیر گیری کورن کو گذشتہ جمعے کو طلب کیا گیا تھا اور ان سے اس حملے پر بات چیت کی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے شامی فوج کی ہائی کمان نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لڑاکا جیٹ نے شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور تدمر کے نزدیک ایک فوجی ہدف کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔شامی فوج نے اس حملے کو جارحانہ حرکت قراردیا تھا جس سے اس کے بہ قول داعش کی مدد ہوئی ہے۔

جنیوا مذاکرات

درایں اثناء روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا نے نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ شامی حکومت کے نمائندے جنیوا میں آیندہ ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

بوغدانوف نے روس کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شام کی مسلح حزب اختلاف بھی ان امن مذاکرات میں شرکت کرے گی۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا جنیوا مذاکرات سے قبل ماسکو کا دورہ کریں گے۔

ڈی میستورا شام کے متحارب فریقوں کے درمیان ایک سیاسی سمجھوتے کے لیے ثالثی کررہے ہیں۔اس سے پہلے ان کی میزبانی اور ثالثی میں شامی فریقوں کے درمیان مارچ کے اوائل میں ابتدائی بات چیت ہوئی تھی۔ اب وہ 23 مارچ کو متحارب فریقوں کے مذاکرات کاروں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے تفصیلی مذاکرات کے خواہاں ہیں۔