.

اسرائیلی فوج میں مرد و زن کا اختلاط کون روک سکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اخبار "ہآریٹز" کے مرکزی اداریے میں کہا گیا ہے کہ صہیونیت کے مرکزی حلقے کے رابیوں کی جانب سے مذہبی رجحان رکھنے والے نوجوان لڑے لڑکیوں سے اسرائیلی فوج میں لڑائی کے مخلوط یونٹوں میں عدم شمولیت کے مطالبے کے بعد.. یہ سوال سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو انتظامی طور پر کون چلا رہا ہے۔

عام طور سے ہر جمہوری ریاست میں فوج میں افرادی قوت بالخصوص مرد اور خواتین کے مشترکہ طور پر خدمات کی انجام دہی کے حوالے سے پالیسی حکومت کی جانب سے اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے مرتب کی جاتی ہے۔ تاہم ہمارے یہاں (اسرائیل میں) کئی برسوں سے ایک ناقابلِ قبول پالیسی اختیار کی گئی ہے جس کے تحت فوج بالعموم عوام کی آنکھوں سے دور رہ کر اُن رابیوں کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے جو اندرون خانہ مذہبی اسکولوں اور عسکری مذہبی کالجوں کے سربراہ ہوتے ہیں۔

یہ ادارے مذہبی بنیادوں پر شرائط کے ساتھ اپنے طلبہ کو فوج کی آمادگی سے لڑائی کے یونٹوں میں خدمات انجام دینے کی منظوری دیتے ہیں۔ اگر فوج کسی پس و پیش کا مظاہرہ کرتی ہے تو یہ رابی دھمکی دیتے ہیں کہ وہ اپنے طلبہ کو فوج میں مذہبی یا پھر غیر جنگجو یونٹوں میں بھیجیں گے جن میں افرادی قوت کی کم ترین طلب ہوتی ہے۔

ابھی تک اس مذہبی چھاپ نے اچھا کام دکھایا ہے۔ ہآریٹز اخبار کے مطابق رابیوں کا کہنا ہے کہ "ابھی تک ہمیں مطلوبہ سطح کی علاحدگی پر عمل درامد کے حوالے سے حل نہیں ملا ہے"۔ دیگر لفظوں میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ " اصولی طور پر ہم لوگ فوج کو یہ اجازت دینے کا اختیار رکھتے ہیں کہ مشترکہ طور پر خدمت کی انجام دہی آیا شریعت کے تفصیلات کے ساتھ میل رکھتی ہے یا نہیں۔ جب تک ہم اس نوعیت کی اجازت جاری نہیں کریں گے اُس وقت تک ہم اپنے یہاں زیر تعلیم طلبہ کو اپنے رسوخ کے ذریعے دیگر شبعوں میں خدمات کی انجام دہی کے لیے بھیجیں گے"۔