.

بشار کی اسرائیل کے ساتھ کھیل کے قواعد بدلنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی صحافی اور تجزیہ کار عاموس ہرئیل نے روزنامہ "ہآریٹز" میں کہا ہے کہ جمعے کو صبح صادق کے وقت اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ بشار حکومت کی جانب سے کھیل کی غیر سرکاری شرائط تبدیل کرنے کی کوشش نظر آتا ہے۔ وہ شرائط جس پر فریقین گزشہ پانچ برسوں سے عمل پیرا رہے ہیں۔

اگرچہ ایسا نظر نہیں آرہا کہ اس مرحلے پر طرفین کے بیچ کوئی وسیع تصادم سامنے آئے تاہم اس کے باوجود یہ واقعہ ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ اسرائیل اور شام کے درمیان فوجی توازن بالکل واضح ہے۔ لہذا دمشق کی جانب سے اسرائیل کو جنگ میں کھینچنا قابلِ شبہ امر ہے جو حالیہ چند ماہ میں شامی حکومت کو حاصل ہونے والی تمام تر کامیابیوں کو برباد کر سکتا ہے۔

ابھی تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے شام میں اہداف کو بم باری کا نشانہ بنایا۔( شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اس طرح کے حملے کا اعتراف کیا ہے)۔ جواب میں شام کی جانب سے اسرائیل کی فضاؤں میں قدیم روسی ساختہ طیارہ شکن SA5 میزائل داغے گئے۔ ان سے اسرائیلی طیاروں کو تو نقصان نہیں پہنچا مگر جنوب کی جانب رواں دواں ایک میزائل کو اسرائیلی فوج نے اپنے فضائی دفاعی نظام سے تباہ کر دیا۔ غور اردن میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور بیت المقدس اور مودیعین کے علاقے میں دھماکے سنائی دیے۔ تباہ کیے جانے والے میزائل کے ٹکڑے اردن کی اراضی میں گرے۔

2012 کے آغاز سے اس طرح کی رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں کہ اسرائیلی فضائیہ شام سے لبنان منتقل کیے جانے والے اسلحے کے قافلوں کو حملوں کا نشانہ بناتی ہے۔ اسرائیل نے بھی باور کرایا ہے کہ وہ اس اسلحے کی منتقلی کو ناکام بنانے پر کام کرتا رہے گا۔ ان ہتھیاروں میں درست نشانے کے جدید ترین طیارہ شکن میزائل اور ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل نے جمعے کی صبح تک براہ راست حملوں کے حوالے سے کوئی نشان دہی نہیں کی ہے۔