.

راکٹوں کی آوازوں سے بشار نواز رپورٹر کے "جھوٹ" کا پول کُھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے ہمنوا ایک ٹی وی چینل "الاخباريۃ السوريۃ" کے میزبان نے اپنی نمائندہ خاتون سے دارالحکومت میں راکٹوں کی آوازوں اور گھات لگا کر فائرنگ کا نشانہ بنانے کے واقعات کی حقیقت پوچھی.. تو خاتون رپورٹر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "شام کی سرکاری فوج کی کامیابیوں کے ساتھ اس طرح کی گمراہ کن افواہیں ایک فطری امر ہے"۔ تاہم اس گفتگو کے ہی دوران خاتون رپورٹر کے نزدیک راکٹ گرنے کی آواز سنائی دی جس سے اس کے چہرے پر خوف کے آثار پیدا ہو گئے اور کیمرا بھی ہل گیا۔

اس موقع پر شرمندگی کا شکار چینل کی رپورٹر نے جھینپ مٹانے کے لیے فوری طور پر اپنی بات میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ راکٹوں کی تعداد "تھوڑی" ہے اور اس کے گرد لوگ بھی جمع ہیں جب کہ رپورٹر نے حفاظتی جیکٹ بھی نہیں پہن رکھی۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے بشار حکومت کے ذرائع ابلاغ پر "گمراہ کرنے" کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ سرکار کا ہمنوا میڈیا "رائے عامہ کو اس بات کا جھانسہ دے رہا ہے کہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقے مکمل طور پر پُر امن ہیں"۔

لاشوں کے بیچ رپورٹ

وڈیو میں نظر آنے والی "میشلین عازر" نامی یہ خاتون رپورٹر 2012 میں "الدنیا" چینل پر داریا شہر کے حالات سے متعلق ایک رپورٹ میں نمودار ہوئی تھی۔ رپورٹ میں وہ شہریوں کی لاشوں کے درمیان چلتی پھرتی نظر آئی۔ میشلین نے اپنے گشت کے دوران ایک خاتون کو زندہ پایا تو اس کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کے بجائے یہ سوال پوچھا کہ تم پر کس نے فائرنگ کی ہے ؟

رپورٹ میں میشلین نے دعوی کیا کہ داریا میں داخل ہونے کا مقصد شہر میں دہشت گردی کے جرائم کی "تصدیق" کرنا ہے۔ اُس نے بشار فوج کے اہل کاروں کے مناظر پیش کیے جو زندہ بچ جانے والے بچوں کو مدد فراہم کر رہے تھے اور انہیں ایمبولینس کی گاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔

میشلین کے خلاف سوشل میڈیا (فیس بک) پر شامی کارکنان کی جانب سے مہم بھی چلائی گئی۔ مہم کا نام "شیطان صفت رپورٹر میشلین عازر کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ" تھا۔

داریا میں شدید زخمی حالت میں پڑے ہوئے شہریوں سے گفتگو کرنے کا انسانیت سے عاری رجحان اختیار کرنے پر مقامی اور بین الاقوامی حلقوں میں میشلین کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔