.

شامی باغیوں کا دمشق کے علاقے پر تین روز میں دوسرا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں حکومت کے زیر قبضہ علاقے پر دوبارہ دھاوا بولا ہے۔یہ تین روز میں باغیوں کا شہر کے کسی علاقے پر دوسرا بڑا حملہ ہے۔

باغی گروپوں میں شامل میں ایک بڑی مزاحمتی تنظیم کے ترجمان نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ منگل کو علی الصباح پانچ بجےباغی جنگجوؤں نے جوبر کےعلاقے پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔اس پر انھوں نے اتوار کے روز بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا لیکن پھر انھیں سرکاری فوج کی جوابی کارروائی کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا۔

شامی فوج کے ایک ذریعے نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے پہلے ایک کار بم دھماکا کیا تھا اور اس کے بعد وہ عباسیین کے علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ان جنگجوؤں کا گھیراؤ کر لیا گیا ہے اور ان سے نمٹا جارہا ہے۔

باغی گروپوں نے اپنے مضبوط گڑھ مشرقی الغوطہ سے دارالحکومت کے مشرق میں حملہ کیا تھا۔ شامی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی الغوطہ میں متعدد کارروائیاں کی ہیں اور اس علاقے میں باغیوں کا سخت محاصرہ کررکھا ہے۔باغی گروپ دراصل شامی فوج کے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے دمشق کے مختلف محاذوں پر حملے کررہے ہیں۔

باغیوں اور شامی فوج کے درمیان دمشق کے شمال مشرق میں واقع علاقے عباسیین میں لڑائی ہورہی تھی۔یہ قدیم شہر کی فصیل سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چوراہے پر واقع ہے۔یہیں سے دارالحکومت کے قلب کی جانب شاہراہ جاتی ہے۔

اس علاقے کے نزدیک رہنے والے ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ صبح پانچ بجے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔اس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں اور لڑاکا طیاروں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔

باغی گروپ فیلق الرحمان کے ترجمان وائل علوان نے بتایا ہے کہ ’’ ہم نے نیا حملہ کیا ہے اور جن جگہوں کو سوموار کے روز خالی کیا تھا،ان پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ہم نے عباسیین گیراج پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے‘‘۔

شامی فوج جوبر اور باغیوں کے زیر قبضہ دوسرے علاقوں پر تباہ کن فضائی حملے کررہی ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج نے باغیوں کے حملے کے آغاز کے بعد سے دمشق کے مشرقی حصوں پر 143 فضائی حملے کیے ہیں اور زیادہ تر حملے جوبر پر کیے گئے ہیں۔

باغی گروپوں نے دمشق کے قلعہ نما علاقے جوبر اور اس کے نواح میں واقع عمارتوں پر ہفتے کی شب اچانک حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا جبکہ شامی فورسز نے باغیوں کے زیر قبضہ آنے والے ان علاقوں پر گذشتہ روز دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

یہاں باغی جنگجوؤں نے زیر زمین سرنگوں کے ذریعے گھس کر دھاوا بولا تھا اور خودکش بم دھماکوں کیے تھے جس کے بعد انھوں نے بہت سی عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ باغی گروپوں نے اس طرح دارالحکومت میں ایک بھرپور حملے کے ساتھ در اندازی کی ہے۔شام میں ماضی میں القاعدہ کی شاخ جبہۃ فتح الشام کی قیادت میں مختلف جنگجو گروپوں اور ایک آزاد گروپ فیلق الرحمان نے مشترکہ طور پر یہ حملہ کیا تھا۔