.

عراقی فورسز مغربی موصل سے شہریوں کے انخلاء کے لیے کوشاں

سرکاری فوجیوں کو داعش کے گڑھ نوری مسجد کی جانب پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سرکاری فورسز شمالی شہر موصل کے داعش کے زیر قبضہ قدیم حصے سے شہریوں کو باہر نکالنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ وہ اس کو جنگجو گروپ سے پاک کرسکیں لیکن اس کے ماہر نشانہ باز بندوقچی اس کوشش میں حائل ہورہے ہیں۔

عراقی فورسز کے ذرائع نے بتایا ہے کہ فوجی یونٹوں کی مسجد النوری کی جانب پیش قدمی کے دوران میں مزاحمت کار شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع موصل شہر کے غربی حصے میں اس وقت چھے لاکھ کے لگ بھگ شہری موجود ہیں اور ان کی وجہ سے عراقی فورسز کو گنجان آباد علاقوں میں داعش کے خلاف کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل یحییٰ رسول نے مشرقی موصل میں منگل کے روز نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’’ ہماری فورسز کا مغربی موصل کے 60 فی صد حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے۔اس وقت قدیم شہر میں تنگ گلیوں میں لڑائی جاری ہے۔وہاں شہری آبادی ہونے کی وجہ سے دشواری کا سامنا ہے اور ہم شہریوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم النوری مسجد سے چند سو میٹر دور رہ گئے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ اس کا داعش کے لیے بہت کچھ مطلب ہے‘‘۔

اس موقع پر بریگیڈئیر جنرل سعد معن نے کہا کہ فوجیوں نے داعش کے نو بندوق بازوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک بم فیکٹری کو بھی تباہ کردیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ قدیم شہر میں نوری مسجد کے ارد گرد کی عمارتوں کی چھتوں پر داعش کے بندوقچیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ہمیں اس علاقے سے خاندانوں کو نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری پیش قدمی کے وقت داعش انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

نوری مسجد کو داعش کے لیے ایک بڑی علامتی حیثیت حاصل ہے۔اگر اس مسجد پر عراقی فورسز کا قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ داعش کے لیے بڑا دھچکا ہوگا اور ایک طرح سے اس کی شکست کا مظہر بھی ہوگا کیونکہ یہیں سے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی نے جون 2014ء میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا اور پھر داعش کے جنگجوؤں نے آناً فاناً عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ابوبکر البغدادی مبینہ طور پر اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کے ساتھ موصل سے فرار ہوچکے ہیں اور وہ عراق اور شام کے درمیان علاقے میں کہیں چھپے ہو سکتے ہیں۔