.

سیناء میں بم دھماکے اور جھڑپیں: 10 مصری فوجی ، 15 انتہا پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ جزیرہ نما علاقے سیناء میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران میں بم دھماکوں میں سکیورٹی فورسز کے دس اہلکار جاں بحق جبکہ جھڑپوں میں داعش سے وابستہ گروپ کے پندرہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصری فوج نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے انتہا پسندوں کا تعلق انصار بیت المقدس سے ہے۔بیان کے مطابق فوجیوں نے سیناء میں جہادیوں کی ایک خطرناک کمین گاہ پر چھاپا مار کارروائی کی تھی اور اس کے بعد ان کی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔

فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ جھڑپیں کب ہوئی ہیں لیکن داعش نے بدھ کی سہ پہر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے سیناء کے شہر العریش کے جنوب میں واقع علاقے میں جھڑپوں کے دوران میں فوج کی دو گاڑیوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔

واضح رہے جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی صوبے شمالی سیناء میں مختلف جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء یا انصار بیت المقدس ہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔