.

شام:الرقہ میں 100 امریکی سپاہیوں کے اتارے جانے کی اطلاعات

حلب اور الرقہ کے درمیان سپلائی روٹ بند کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے دارالحکومت قرار دیے جانے والے الرقہ شہر میں امریکی فوج کے تازہ دستوں کے اتارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

’العربیہ‘ نیوز چینل کو اپنے ذریعے سے اطلاعات ملی ہیں کہ امریکی ’انفنٹری‘ [پیادہ] فوج کے 100 تربیت یافتہ سپاہیوں کو الرقہ کے نواحی علاقوں ابو ھریرہ، المشیرفہ، الکرین اور المحیمہ میں فضاء سے اتارا گیا۔ امریکی فوجیوں نے شامی اپوزیشن کی ڈیموکریٹک فورسز کی معاونت سے حلب اور الرقہ کےدرمیان سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا ’حمایۃ الشعب‘ نے اپنے جنگجوؤں کو جعبر کے مقام سے کشتیوں کے ذریعے پہنچانا شروع کیے ہیں۔

درایں اثناء سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں عالمی اتحادی فوج کے اہلکاروں کی نفری الرقہ میں اتاری گئی ہے تاکہ داعش کے خلاف جاری آپریشن کو مزید وسعت دی جاسکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فوجیوں کے اتارے جانے کا مقصد دریائے فرات کے کنارے اور اس کے بالمقابل کے ان علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط بنایا جاسکے جو حالیہ کارروائیوں کے دوران داعش سے چھینے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کا کہنا ہے کہ الرقہ کے تزویراتی علاقے پر کنٹرول اور فرات ڈیم پر قبضے کے لیے اپوزیشن فورسز کو امریکی توپخانے کی بھرپور مدد فراہم کی جائے گی۔

وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی الرقہ میں داعش کے خلاف برسرپیکار ڈیموکریٹک فورسز کو فضائی مدد فراہم کریں گے۔ ترجمان کے مطابق امریکی فضائیہ شامی ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجوؤں کو الطبقہ ڈیم پر قبضے کے لیے ان کی منتقلی میں مدد کررہی ہے۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے’انسانی حقوق آبزرویٹری‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز اتحادی طیاروں کی بمباری کے نتیجےمیں الرقہ سے نقل مکانی کرنے والے 33 شہری مارے گئے۔ یہ ہلاکتیں مغربی الرقہ میں المنصورہ کے مقام پر ایک اسکول پر بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے گا۔