.

مصری انتہا پسند ابوالعلا عبد ربہ شام میں فضائی حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر سے تعلق رکھنے والا ایک معروف انتہا پسند جنگجو ابوالعلا عبد ربہ شام میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔وہ مصر کے معروف دانشور فرج فودہ کے قتل سمیت دہشت گردی کے متعدد حملوں میں ملوّث تھا۔

ابوالعلا عبد ربہ شام میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد داعش میں شامل ہوگیا تھا لیکن بعد میں وہ اس کو چھوڑ کر احرار الشام میں شامل ہوگیا تھا۔شام میں صدر بشارالاسد کے لڑاکا طیاروں نے بدھ کو اس کے گروپ کو ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا اور اس میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس گروپ کے ایک سابق جنگجو لیڈر نے قاہرہ میں العربیہ کے نمائندے اشرف عبدالحمید سے گفتگو کرتے ہوئے ابوالعلا کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔وہ مصر کے کالعدم جنگجو گروپ الجماعۃ الاسلامیہ کے 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں سرکردہ لیڈروں میں سے ایک تھا۔

اس کو 1992ء میں مصری لکھاری اور دانشور فرج فودہ کے قتل کے الزام میں قصور وار قرار دے کر عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کو سیاحوں اور مقامی مصریوں پر دہشت گردی کے حملوں کے الزامات میں بھی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ابوالعلا عبد ربہ کو معزول مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور میں 2012ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔اس نے ایک سال بعد اگست 2013ء میں قاہرہ کے مشہور رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے کارکنان کے ساتھ ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔اس سے ایک سال بعد وہ مصر سے فرار ہوکر شام چلے گئے تھے جہاں انھوں نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

یادرہے کہ فرج فودہ کو 9 جون 1992ء کوان کے دفتر سے باہر نکلتے ہوئے قتل کردیا گیا تھا۔انھیں دو انتہا پسندوں نے گولی مار دی تھی۔