.

سعودی عرب : العوامیہ میں چھ شخصیات دہشت گردوں کی ہِٹ لِسٹ پر ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرق میں واقع ایک ضلعے قطیف کے قصبے العوامیہ میں ایک دیوار پر نامعلوم افراد نے سرخ رنگ سے یہ تحریر لکھ دی : "بعض ایجنٹ غداروں کے نام".. اس کے نیچے قطیف سے تعلق رکھنے والی چھ شخصیات کے نام بھی دیے گئے۔ دن دہاڑے اعلانیہ طور پر ان ناموں کی فہرست منظر عام پر لانے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے ؟!

دیوار پر تحریر تمام نام ان شخصیات کے ہیں جو "تشدد" کے خلاف ہیں اور قطیف میں دہشت گرد گروپوں کی جانب سے مسلح سرگرمیوں کو مکمل طور مسترد کرتی ہیں۔

فہرست کے چھ نام یہ ہیں :

1 ۔ شيخ حسن الصفار : ایک معروف مذہبی شخصیت جس نے 10 مارچ کو نماز جمعہ کے خطبے میں گزشتہ چند روز کے دوران قطیف میں دیکھی جانے والی لاقانونیت کی شدید مذمت کی۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورت حال کو قابو میں لائیں۔

2 ۔ انجینئر نبیہ البراہیم : ایک سماجی شخصیت جو قطیف کی بلدیاتی کونسل کی سابق رکن بھی ہے۔ اسلحہ رکھنے کے خلاف اپنے مخالف موقف اور ٹی وی چینلوں اور فورموں میں اس موقف کے اعلانیہ اظہار کے نتیجے میں رواں ماہ کے آغاز میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔ العوامیہ کے عوام میں مسلح افراد کا مقابلہ کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے واسطے بھرپور سرگرم کردار ادا کیا۔

3 ۔ احمد المشیخص : العوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک سماجی کارکن جو شیخ حسن الصفار کا داماد بھی ہے۔ انجینئر نبیہ البراہیم کے قتل کی کوشش کے بعد اس نے ٹوئیٹر پر دہشت گردی اور اغوا کی کارروائیوں کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ احمد کے مطابق "تشدد کو مسترد کرنا اور اس کی مذمت کرنا ، اس کے خلاف آواز بلند کرنا یہ سب دہشت گردوں کے ٹولوں کو پسند نہیں آتا"۔

4 ۔ محمد التركی : قطیف سے تعلق رکھنے والی ذرائع ابلاغ کی ایک شخصیت ہے۔ انجینئر نبیہ البراہیم پر قاتلانہ حملے کے بعد "جهينۃ" نامی روزنامے میں ایک مضمون بھی تحریر کیا۔ مضمون میں الترکی نے زور دیا کہ "مذکورہ قاتلانہ حملہ معاشرے کے افراد کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ان بے کار عناصر کے خلاف صف آرا ہوجائیں جنہوں نے ہماری آزادی سلب کر لی ہے جس میں ادنی ترین درجہ آزادی رائے کا ہے"۔ معاشرے میں تشدد اور اس کے نقصانات کے حوالے سے منعقدہ ایک فورم میں الترکی کا کہنا تھا کہ "آج دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کرنے والا ہر شخص کی جان کو خطرے کا سامنا ہے۔ ہمیں تشدد کے خلاف یکساں اور متحد موقف کی ضرورت ہے"۔

5 ۔ سكينہ المشيخص : یہ "الحُرّہ" چینل میں کام کرتی ہیں اور "حديث الخليج" نامی پروگرام کی میزبان بھی ہیں۔ اپنے کالموں اور ٹوئیٹر پر "دہشت گردوں" کے خلاف اکثر اپنی مذمت کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ العوامیہ کی دیوار پر تحریر "غداروں" سے متعلق عبارت پر ان کا کہنا ہے کہ "ہم نے ایسا کیا کیا ہے کہ ہمیں غدار اور ایجنٹ قرار دیا گیا؟ ہم نے صرف دہشت گردی کے خلاف آواز ہی تو اٹھائی ہے تاکہ العوامیہ کے باسی امن سے رہ سکیں"۔

6 ۔ ولید سليس : سماجی کارکن جو انجینئر البراہیم پر فائرنگ کے جرم کے خلاف بھی ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ٹوئیٹر پر بھی البراہیم کے ساتھ بھرپور یک جہتی کے موقف کا اعلان کیا۔

یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ مذکورہ چھ ناموں کی فہرست کا کیا مقصد ہے۔ بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اس کا مقصد قطیف میں عوام کو دہشت گردوں کے خلاف متحرک کرنے والی ہر آواز کو دبا دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ مقصد بھی کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا جائے جو اب سرعام محفلوں اور تقاریب میں مسلح کارروائیوں کے سبب سامنے آنے والی لاقانونیت پر کھل کر بات چیت کرتے ہیں۔ اس لاقانونیت نے شہریوں کے گھروں کی سکیورٹی کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ "مسلح عناصر" کو اندیشہ ہے کہ مقامی سطح پر معاشرے کے اندر ان کی مخالفت کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ بالخصوص مذہبی شخصیات نے ان عناصر پر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو "شرعی طور پر حرام" قرار دیا ہے۔