.

غلطی سے لندن حملے کا مورودِ الزام ٹھہرایا جانے والا برطانوی کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں بدھ کے روز پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے بعد غلطی سے ایک مسلم برطانوی "ابو عزالدین" کو واقعے کا مورودِ الزام ٹھہرایا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اخباری رپورٹوں کی زینت بننے والے ان الزامات کو واپس لے لیا گیا۔

سیٹلائٹ چینل "نیوز 4 نیوز" اور برطانوی اخبا ر "دی انڈیپنڈنٹ" دونوں نے ابتدا میں "عزالدين" کو مشتبہ شمار کیا تاہم کئی ذرائع نے "بی بی سی نیوز" کو بتایا کہ یہ مسلم مذہبی شخصیت ابھی تک جیل میں ہے اور وہ اس حملے کا ذمے دار نہیں۔

جنوری 2016 میں عزالدین اور ایک دوسرے مسلح مسلم شخص کو دہشت گردی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے پر دو برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ دونوں افراد پولیس کو اطلاع دیے بغیر برطانیہ سے باہر چلے گئے تھے۔ انہیں نومبر 2015 میں ہنگری میں ایک ٹرین کے اندر سے حراست میں لیا گیا جو کہ رومانیہ کے دارالحکومت بُخارسٹ جا رہی تھی۔

17 اپریل 2008 کو عزالدین پر دہشت گرد کارروائیاں کرنے اور دہشت گردی کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے سے متعلق فردِ جرم عائد کی گئی اور اسے ایک برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا جس کے بعد 2009 میں وہ رہا ہو گیا۔ اس سے قبل وہ لندن کی پارک ریجنٹس مسجد میں منافرت سے بھرپور تقاریر بھی کر چکا تھا۔

حالاتِ زندگی

اس کا حقیقی نامTrevor Richard Brooks ہے اور اسلام لانے کے بعد اس نے خود کو "ابو عزالدين" کا نام دیا۔ وہ 18 اپریل 1975 کو مشرقی لندن میں پیدا ہوا۔ ابو عزالدین برطانیہ کی جماعہ اسلامیہ کا ترجمان بھی رہا جس پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت 2006 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ابو عزالدین کا نسلی طور پر تعلق جمیکا کے ایک مسیحی خاندان سے ہے۔ اس نے 17 اپریل 1993 کو اپنی 18 ویں سال گرہ سے ایک روز قبل اسلام قبول کیا۔ اس کا اسلامی نام عمر رکھا گیا تاہم اس نے اپنے لیے پسندیدہ عرفیت "ابو عزالدين" کو برقرار رکھا۔

ابو عزالدین روانی کے ساتھ عربی بولتا ہے۔ 90ء کی دہائی میں وینسبری کی مسجد میں عمر بکری محمد اور ابو حمزہ المصری سے ملاقات کے بعد وہ اسلام سے متعارف ہوا تھا۔

بیرونی سرگرمیاں

ابو عزالدین نے 11 ستمبر کے حملوں سے قبل 2011 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ اس کا دعوی ہے کہ وہ چند لیکچر دینے کے لیے پاکستان گیا تھا۔ ساتھ ہی وہ یہ دعوی بھی کرتا ہے کہ اس نے افغانستان میں عسکری تربیت کے کیمپوں بھی شرکت کر چکا ہے۔ اس نے الیکٹریشن کا کام سیکھ کر اس کو پیشے کے طور پر بھی اپنایا۔ 1998 میں ابو عزالدین نے مختاریہ نامی ایک عرب نژاد لڑکی سے شادی کر لی اور اب اس کے تین بچے ہیں۔

لندن میں 7/7 کے حملوں سے متعلق موقف

ابو عزالدین نے سات جولائی 2005 کو لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں (7/7) کو "قابلِ تعریف کارروائی" قرار دیا تھا۔

لندن میں 7/7 کے حملوں کی سالانہ یاد سے قبل اس نے برمنگھم میں مسلمانوں کے ایک گروپ سے خطاب کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ پر یقین رکھنے والوں اور اسلامی دہشت گردی کی مزاحمت کی ضرورت محسوس کرنے والوں کا مذاق اڑایا۔ عزالدین نے براہ راست طور پر اپنے بیان میں کہا کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ ایک خودکش حملہ آور کے طور پر موت کو گلے لگائے۔

20 ستمبر 2006 کو مسلمانوں کے وفد کے ساتھ برطانوی وزیر داخلہ جان ریڈ کی پہلی ملاقات کے موقع پر بھی ابو عزالدین گڑبڑ مچانے سے باز نہیں آیا اور بآواز بلند وزیر داخلہ کو اسلام کا "دشمن" قرار دیا۔

2006 میں برطانوی جریدے " بی بی سی" کے جان ہمفریس کو دیے گئے انٹرویو کے دوران گرما گرم بحث میں عز الدین نے باور کرایا کہ اس کی زندگی کا مقصد برطانیہ میں شریعت کا نفاذ ہے.. اور یہ مقصد جمہوری عمل کے ذریعے نہیں بلکہ "اسلامی منہج" کو اپنا کر پورا ہوناچاہیے۔