.

اسرائیل: یہودی اداروں کو دھمکانے کےالزام میں ایک یہودی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے جمعرات کو ایک اسرائیلی کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جس پر بیرون ملک سرگرم یہودی اداروں کو دسیوں دھمکیاں دینے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے ایک بیان میں بتایا کہ جنوبی سے ایک یہودی شہری کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مشتبہ یہودی ملزم کی عمر انیس سال بتائی گئی ہے تاہم اس کی مزید شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق زیرحراست مشتبہ یہودی امریکا اور اسرائیل دونوں کی شہریت کا حامل ہے۔

اسرائیلی پولیس ترجمان کے بہ قول یہودی آباد کار کی جانب سے یہودی اداروں کو دھمکیاں دینے کی تحقیقات کئی دوسرے ملکوں میں بہ یک وقت شروع کی گئی ہیں۔ یہ دھمکیاں ٹیلیفون پر پبلک مقامات میں یہودیوں کی آمد ورفت، یہودیوں کی سرگرمیوں، یہودی معابد اور سماجی نوعیت کی تقریبات ان دھمکیوں کی بناءپر منسوخ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی یہودی تنظیموں کو بھی اسرائیلی یہودی کی طرف سے سنگین نتائج کیی دھمکیاں مل چکی ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق وہ یہودی اداروں کو دھمکیاں دینے کی تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی خفیہ ادارے’ایف بی آئی‘ اورر دیگر اداروں کی پولیس سے بھی مدد لے رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام یہودی اداروں کو دھمکانے والے یہودی اور امریکا میں گذشتہ ایک سال سے 100 یہودی اداروں کو باضابطہ حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات کو مربوط نہیں کرسکی۔ یہودی آباد کار کی دھمکی آمیز پیغامات کا یہودی اداروں پر حملوں سے کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ یہودی سے جاری تفیتش سے انہیں توقع ہے کہ دنیا بھر میں یہودی اداروں پر ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔