.

ایران نواز ملیشیائیں بشار کی معاونت کے لیے دمشق میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز عراقی ملیشیا "النجباء" کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری تصاویر میں ملیشیا کے عناصر شامی دارالحکومت دمشق کے اطراف میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ عناصر شامی اپوزیشن کے خلاف شامی حکومت کی جنگ میں بشار الاسد کی سپورٹ کے لیے وہاں موجود ہیں۔

نظریاتی طور پر ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ کی پیروکار "النجباء" ملیشیا نے بتایا ہے کہ یہ تصاویر دمشق کے اطراف جوبر اور العباسیین کے علاقوں میں موجود اس کے ارکان کی ہے۔ اس سلسلے میں جاری کی گئی مختلف تصاویر میں ملیشیا کے ارکان اپنی عسکری وردیوں میں مذکورہ علاقے میں متعین نظر آ رہے ہیں۔

ایک تصویر میں ملیشیا کی پیروکار کوئی مذہبی شخصیت ظاہر ہو رہی ہے جس کے سر پر عمامہ اور ہاتھ میں تسبیح مومود ہے۔

اس سے قبل "النجباء" ملیشیا سے تعلق رکھنے والے اجرتی قاتل حلب پر بشار حکومت کے حملے اور وہاں شہریوں کا خون بہانے میں بھی شریک رہے تھے۔ ملیشیا کے سربراہ اکرم الکعبی نے شیعہ اکثریتی قصبوں کفریا اور الفوعہ کے باسیوں کے نام بھیجے جانے والے خط میں انتہائی شرم ناک انداز سے فرقہ وارانہ "فتنے" کی عبارتوں کا استعمال کیا تھا۔

الکعبی نے بشار حکومت اور شامی اپوزیشن کے درمیان جنگ کو "فرزندانِ حسین" اور "فرزندانِ یزید" کے درمیان جنگ قرار دیا تھا۔ اس خط سے متعلق تفصیلی خبر العربیہ ڈاٹ نیٹ شائع کر چکا ہے۔

ایران نے بشار کے حق میں لڑنے کے واسطے درجنوں فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کو شام میں گُھسایا۔ ان میں سرِفہرست لبنان کی "حزب الله" اور عراق کی "النجباء" ملیشیا ہیں جو نظریاتی طور پر ایران کے مرشد اعلی کی پیروکار ہیں۔ ان کے علاوہ "فاطميون" اور دیگر ملیشیائیں بھی شامل ہیں۔