.

لندن : جائے حادثہ سے گزرتی باحجاب خاتون پر سخت تنقید کیوں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک باحجاب خاتون کو جو کہ غالبا عرب ہے بڑی سرگرمی سے موضوع بحث بنایا جا رہا ہے۔ ٹوئیٹر پر مذکورہ خاتون کی چند تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں وہ بدھ کے روز لندن میں ویسٹ منسٹر پُل پر "اپنے موبائل فون میں مصروف" گزرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یہ خاتون اپنے اطراف موجود اُن ہلاک اور زخمی افراد سے بے نیاز اپنی دُھن میں چلی جا رہی ہے جو برطانوی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے شخص کی گاڑی تلے روند دیے گئے تھے۔

یہ لوگ پروا نہیں کرتے جب کہ ہمارا معاملہ برعکس ہے

اس باحجاب خاتون کی بے نیازی کو سب سے پہلے نوٹ کرنے والا شخص ایک امریکی ہے جو غالبا ٹیکساس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس شخص@SouthLoneStar نے ٹوئیٹر پر دو مذکورہ خاتون کے موبائل فون میں مصروف رہنے والی تصویر کا ایک دوسری تصویر سے موازنہ کیا ہے جو اُس برطانوی وزیر کی ہے جس نے حملہ آور کا نشانہ بننے والے پولیس اہل کار کی جان بچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ دونوں تصاویر کو جوڑ کر اس کو عنوان دیا گیا ہے کہ "مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان فرق"۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ عرب اور مسلمان تو دہشت گردی کا نشانہ بن کر ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی پروا نہیں کرتے جب کہ "ہم" اس معاملے میں برعکس ہیں۔

مذکورہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے 44 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔ یہاں سے اس باحجاب خاتون کی تصویر درجنوں دیگر اکاؤنٹس پر پھیل گئی اور پھر وہاں سے فیس بک کے علاوہ متعدد برطانوی ذرائع ابلاغ تک جا پہنچی۔ ساتھ ہی اس تصویر کو پوسٹ کر کے یہ استفسار کیا جا رہا ہے کہ آیا کوئی اس خاتون کو جانتا ہے۔

چہرے پر فون سے زیادہ کسی اور معاملے کی فکر ظاہر

مذکورہ ٹوئیٹر اکاؤنٹTexas Lone Star نے اس حجاب پہنی خاتون کی ایک تصویر کو پوسٹ کر کے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ "مسلمان خاتون جو دہشت گرد حملے پر توجہ ہی نہیں دے رہی۔ یہ ایک دم توڑتے شخص کے پاس سے گزر رہی ہے اور اپنے فون میں مصروف ہے"۔ اس کے جواب میںKelly Blackwell نامی خاتون نے جوابی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "تمہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ اس تصویر میں کیا ہو رہا ہے اسی لیے تم اس کو ایک خاص پیرائے میں لے رہے ہو"۔ اس دفاعی ٹوئیٹ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ری ٹوئیٹ کیا ہے۔

جوابی ٹوئیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حجاب پہنی یہ خاتون درحقیقت اپنے موبائل فون کے ساتھ "تفریح" میں مصروف نہیں جیسا کہTexas Lone کی جانب سے گمان کیا جا رہا ہے.. بلکہ غالبا وہ ایمبولینس یا اپنے جاننے والے کسی ڈاکٹر سے رابطہ کر رہی ہے اور یا پھر یہ خود کوئی نرس ہے جو پل پر موجود کسی اور زخمی کے پاس پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے عزیز و اقارب میں سے کوئی شخص اس دہشت گرد کی گاڑی تلے روند دیا گیا ہو اور وہ اس تک پہنچنے کی فکر میں ہو۔ تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ خاتون کے چہرے پر فون سے زیادہ کسی دوسرے معاملے کی فکر ظاہر ہو رہی ہے۔