.

موصل میں قتل عام، خواتین اور بچے ملبے تلے دب گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل میں گذشتہ روز امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں 230 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فضائی بمباری کا نشانہ بننے والے مکانوں کے ملبے تلے دسیوں بچوں اور خواتین دب کر ہلاک ہوگئی ہیں۔

ایک سیکیورٹی ذریعے نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ایک مکان کےملبے سے ایک سو تیس افراد کی میتیں نکالی گئی ہیں جب کہ کئی افراد جن میں خواتین ارو بچے شامل ہیں اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ’نیو موصل‘ میں اتحادی طیاروں نے تین مکانوں پر بم گرائے جس کے نتیجے میں کم سے کم دو سو تیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایک مکان کے ملبے سے 130 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ لاشی نکالنے کا عمل رات گئے جاری رہا ہے۔ مغربی موصل میں دو دیگر مکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 100 افراد مارے گئے۔

’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق نیو موصل میں اتحادی طیاروں کی بمباری کےنتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی کئی افراد دبے ہوئے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مغربی موصل میں داعش کے خلاف جاری لڑائی کے دوران جن تین مکانوں پر اتحادی طیاروں نے بمباری کی تھی ان کے ملنے کے نیچے سے خواتین اور بچوں کو نکالنے کے لیے امداد کے لیے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فضائی بمباری اور داعش کے خلاف لڑائی میں شدت کے باعث گذشتہ روز بمباری سے متاثرہ مقامات میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔