.

اسرائیلی فوجی کے بدلے میں رہائی پانے والا حماس کا عہدہ دار قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں نامعلوم مسلح افراد نے حماس کے ایک عہدہ دار مازن فقہاء کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔ مازن فقہاء سمیت ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل نے 2011ء میں اپنے فوجی گیلاد شالیت کے تبادلے میں رہا کیا تھا۔

غزہ میں حماس کے تحت وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البوزوم نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے جمعہ کے روز تل الحماہ کے علاقے میں مازن فقہاء پر فائرنگ کی تھی اور واقعے کی تحقیقات کی شروع کردی گئی ہے۔مازن فقہاء کو غزہ میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ان کی نماز جنازہ میں حماس کے کارکنان سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی ہے۔

غزہ میں حماس کی پولیس کے ترجمان ایمن البطنیجی کا کہنا ہے کہ ’’مازن کو سر میں چار گولیاں ماری گئی تھیں اور اسرائیل اور اس کے آلہ کار ان کے قتل کے ذمے دار ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ اس جرم کا کون ذمے دار ہے؟‘‘

مقتول مازن فقہاء اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں حماس کے ایک سینیر عہدہ دار تھے لیکن وہ اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد غزہ منتقل ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن غزہ میں حماس کے ایک سینیر عہدہ دار خلیل الحيہ کا بھی کہنا ہے کہ’’ اس قتل سے کسی اور کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے صرف قابض (اسرائیل) کا مفاد ہوسکتا ہے۔اس سے کسی دوسرے فریق کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا‘‘۔