.

حزب اللہ کی معاون "مالی سلطنت" کا مالک امریکا کی حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں لبنانی شہری قاسم تاج الدین کو حراست میں لیے جانے کے معاملے کے بعد امریکی عدالت نے جمعے کے روز اُسے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا اہم مالی شریک قرار دیا۔

تاج الدین کو جمہوریہ گِنی کے دارالحکومت کوناکری سے بیروت آتے ہوئے 12 مارچ کو مراکش کے شہر الدار البیضاء کے ہوئی اڈے پر حراست میں لیا گیا۔ اس اقدام کا حکم نامہ واشنگٹن میں بین الاقوامی پولیس کے بیورو کی جانب سے جاری ہوا تھا۔ بیورو کی جانب سے تاج الدین پر جعل سازی ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کا الزام عائد کیا۔

تاج الدین کو دہشت گردوں کی امریکی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے تقریبا آٹھ برس بعد واشنگٹن کی وفاقی عدالت نے اُس پر الزامات عائد کیے۔

"مالی سلطنت کا مالک "

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاج الدین اربوں ڈالروں کی ایک عالمی سلطنت کو چلا رہا ہے جو مشرق وسطی اور افریقہ میں کاروبار کر رہی ہے ۔

دوسری جانب امریکی وزارت انصاف نے واضح کیا ہے کہ جمعے کی صبح امریکا پہنچنے والے تاج الدین کی گرفتاری انسداد منشیات کے زیر قیادت کسٹم اور سرحدی انتظامیہ کے تعاون سے دو برس تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی ہے۔

مشرق وسطی اور افریقہ میں خام مال کی تجارت کرنے والے تاج الدین کو مئی 2009 میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے والا اہم شخص قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

امریکا کی جانب سے حراست کی وجوہات

امریکی نائب وزیر انصاف کینیتھ بلینکو نے ایک بیان میں واضح کیا کہ "حزب اللہ جیسی بڑی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو مالی سپورٹ کی وجہ سے امریکی انتظامیہ نے 2009 میں قاسم تاج الدین پر پابندیاں عائد کر کے امریکیوں اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ اس کے معاملات کو ممنوع قرار دیا تھا"۔

تاج الدین امریکی برآمد کنندگان سے خام مال کی خریداری کرنے کے بعد بینک ٹرانسفر کے ذریعے مجموعی طور پر 2.7 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر رہا تھا۔ ان معاملات میں شامل امریکی کمپنیوں کو علم نہیں تھا کہ وہ تاج الدین کے ساتھ ملوث ہیں۔

تاج الدین کا جواب

دوسری جانب 62 سالہ تاج الدین نے اپنی ضمانت کی ادائیگی کر دی ہے تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت کے انعقاد تک اس کی حراست جاری رہے گی۔ لبنانی تاجر کے وکیل کی جانب سے دیے گئے جواب میں باور کرایا گیا ہے کہ تاج الدین کے دہشت گرد سرگرمیوں سے تعلق کے حوالے سے تمام تر دعوے جھوٹے ہیں۔

2009 میں امریکی وزارت انصاف کی جانب سے تاج الدین کا نام دہشت گردی سے متعلق فہرست میں شامل کیے جانے کے حوالے سے وکیل شِبلی ملاط کا کہنا ہے کہ یہ الزامات غلط ہیں۔ ملاط کے مطابق تاج الدین نے ان الزامات کو ختم کیے جانے کے لیے امریکی وزارت خزانہ کے متعلقہ ادارے کو مطلوبہ معلومات اور ثبوت فراہم کر دیے تھے۔