.

تصاویر کے آئینے میں : 1946 کا پہلا عرب سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شہر انشاص میں 1946 میں ہونے والے اجلاس کو پہلا عرب سربراہ اجلاس شمار کیا جاتا ہے جو عرب لیگ کے قیام کے ایک برس بعد منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں میزبان مصر کے علاوہ سعودی عرب ، یمن ، شام ، اردن ، عراق اور لبنان نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا فلسطین پر جارحیت کو روکنا اور عرب ممالک کو استعمار سے آزاد کیے جانے کا مطالبہ تھا۔

تاہم مبصرین کے نزدیک مذکورہ سربراہ اجلاس ہنگامی اجلاسوں کے ضمن میں آتا ہے اور درحقیقت پہلا عرب سربراہ اجلاس 13 جنوری 1964 کو قاہرہ میں منعقد ہوا جس کی دعوت سابق مصری صدر جمال عبدالناصر نے دی تھی۔

پہلے سربراہ اجلاس کے شرکاء

انشاص کا سربراہ اجلاس 28 اور 29 مئی 1946 کو شاہ فاروق اوّل کی قیام گاہ پر منعقد ہوا۔ یہ مقام دارالحکومت قاہرہ سے 600 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

اجلاس میں امارتِ شرق اردن کی نمائندگی امیر عبداللہ اوّل نے کی ، یہ ریاست فسلطین پر برطانوی تسلط کے بعد قائم ہوئی تھی۔ سعودی عرب کی نمائندگی ولی عہد شہزادہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے ، یمن کی نمائندگی ریاست کے امام یحیی حمیدالدین کے بیٹے سيف الاسلام ابراهيم نے ، عراق کی نمائندگی ریاستی اقتدار کے نگراں عبدالالہ بن علی الہاشمی نے ، لبنان کی نمائندگی خود مختاری کے بعد جمہوریہ کے پہلے صدر بشارہ الخوری نے اور شام کی نمائندگی صدر شکری القوتلی نے کی۔

یادگاری ٹکٹ

اس سربراہ اجلاس کے موقع پر کئی یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیے گئے۔ ان میں ہر ایک ٹکٹ پر کسی فرماں روا یا سربراہ کی تصویر تھی۔ اجلاس کے سلسلے میں تمام تر تیاری اور ماحول سرکاری سطح کا نظر آیا جن میں ہوائی اڈوں پر وفود کے سربراہوں کے استقبال سے لے کر متعلقہ پروٹوکول تک تمام مرحلے شامل ہیں۔ اجلاس کے لیے تمام تر انتظامات لائق تحسین تھے۔

انشاص سربراہ اجلاس کے نتائج

انشاص کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر سرکاری طور پر کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں بعض فیصلوں پر اکتفا کیا گیا جن میں اہم ترین فیصلہ استعماری طاقتوں سے خو مختاری کے لیے کوشاں عرب اقوام کی مدد تھا کیوں کہ بہت سے عرب ممالک اُس وقت تک سامراج سے آزاد نہیں ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ سربراہ اجلاس میں مسئلہ فلسطین کو قومی معاملات میں مرکزی حیثیت میں رکھنے پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی صہیونیت کو فلسطین کے علاوہ تمام عرب اور اسلامی ممالک کے لیے خطرہ شمار کرتے ہوئے اس کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم کیا گیا۔

اجلاس میں یہودیوں کی ہجرت کو مکمل طور پر روک دینے ، عرب اراضی کو صہیونیوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنے اور فلسطین کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سربراہ اجلاس میں باور کرایا گیا کہ فلسطین کے خلاف امریکی اور برطانوی حکومتوں کی کسی بھی جارحانہ پالیسی کو عرب لیگ کے تمام ممالک کے خلاف جارحیت پر مبنی پالیسی شمار کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں پہلے سربراہ اجلاس میں طرابلسِ غرب (لیبیا) کی خود مختاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ عمومی لحاظ سے ثقافتی اور مادی سطح پر عرب عوام کی ترقی اور سربلندی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ وہ کسی بھی صہیونی حملے کا مقابلہ کر سکیں۔