.

امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشیلم منتقل کرنے کی بات کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس ( یروشیلم) منتقل کرنے کی بات کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کی بات کی تھی لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد انھوں نے اب تک اس موضوع پر لب کشائی نہیں کی ہے اور ایک طرح سے اس موضوع پر خاموشی کی چادر تان دی گئی تھی۔

لیکن اب نائب صدر مائیک پینس اس موضوع پر لب کشا ہوئے ہیں۔انھوں نے امریکا کے اسرائیل نواز لابی گروپ کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عشروں تک اس معاملے پر بات چیت کے بعد صدر ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دائمی اور غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تمام ممالک اپنے اپنے سفارت خانے وہاں منتقل کردیں۔تاہم اسرائیلی سیاست دان یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے فلسطینیوں کے ساتھ تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکا کے بہت سے اتحادی بھی اس کے سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کی مخالفت کرچکے ہیں کیونکہ فلسطینی اس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ پھر اس شہر کی حتمی حیثیت کے بارے میں فریقین کے درمیان کوئی فیصلہ بھی نہیں ہوا ہے۔

اگر امریکا اس صورت حال میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردیتا ہے تو یہ اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یروشیلم اسرائیل کا ملکیتی ہے۔اس طرح وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔

امریکی سینیٹ نے گذشتہ جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کے لیے مقرر کردہ سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین کے تقرر کی منظوری دی تھی۔ وہ اسرائیلی حقوق کے علمبردار ایک بنک دیوالہ وکیل ہیں اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب منتقل کرنے کی وکالت کرچکے ہیں۔