.

موصل: بادوش ڈیم عراقی فوج کے کنٹرول میں، داعش پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے مغربی موصل میں بادوش ڈیم سے داعش کو نکال باہر کرنے کے بعد ڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے میڈیا وار سیل نے آپریشنل انچارج جنرل عبدالامیر رشید یا راللہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ آرمرڈ بریگیڈ 9 کے مختلف گروپوں نے کارروائی کرکے بادوش ڈیم [سنحاریب ڈیم] کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے بعد اس پر عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جاری آپریشن میں بادوش ڈیم میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس اہم پیش رفت سے کچھ دیر قبل عراقی فوج نے مغربی موصل کے صنعتی علاقے ’العروبہ‘ کالونی سے بھی داعش کو نکال ہابر کرنے کے بعد وہاں پر موجود اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ مغربی موصل عراق کے گنجان آباد شہروں میں زیادہ آبادی والا شہر قرار دیا جاتا ہے۔ بغداد سے شمال میں 400 کلو میٹر دور اسشہر پر داعش نے 2014ء کے وسط میں قبضہ کیا تھا۔

عراقی فوج نے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے گذشتہ برس اکتوبر میں آپریشن شروع کیا تھا۔ شہر کے مشرقی حصے میں آپریشن جنوری میں مکمل کرلیا گیا تھا جب کہ 19 فروری کے بعد مغربی موصل میں داعش کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی جو اب بھی جاری ہے۔

بادوش ڈیم بھی مغربی موصل کا حصہ ہے۔ دریائے دجلہ پر یہ پل موصل شہر سے شمال مغرب میں 16کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ یہ ڈیم موصل ڈیم کے ٹوٹنے کے خطرے کے پیش نظر متبادل کے طور پرتیار کیا گیا تھا۔ اس ڈیم سے متوقع طور پر 170 میگاواٹ بجلی کی تیاری کا منصوبہ ہے۔ سنہ 2003ء میں عراق پر امریکی یلغار کے بعد اس ڈیم کی تعمیر کا کام روک دیا گیا تھا۔