.

کیا حماس نیا سیاسی منشور تیار کر رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبہ کے آؤٹ گوئینگ سربراہ خالد مشعل کی جانب سے تنظیم کے منشور کی تشکیلِ نو پر کام کیے جانے سے متعلق اعلان کو ایک ماہ گزر چکا ہے۔ اس حوالے سے غزہ پٹی سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حماس تحریک کی "سیاسی دستاویز" کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت اپنے آخری مراحل میں ہے۔ البتہ اس حوالے سے متضاد خبریں ہیں کہ آیا حماس 1988 میں اعلان کردہ تاسیسی منشور کی از سر نو تشکیل کے درپے ہے یا اس پرانے منشور کو ہی باقی رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ تاہم "سیاسی دستاویز" تنظیم کے لیے ایک نئے سیاسی پروگرام کی نمائندہ ہو گی۔

دوسری جانب غزہ پٹی میں حماس کی قیادت میں شامل ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے کہ مجلسِ شوری تنظیم کے نئے دستاویز کو حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ خود تنظیم کی تعریف کا از سرِ نو تعین کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق عنقریب جاری کی جانے والی دستاویز کے ذریعے "غیر فطری اندازِ فکر" اور "جہادی سلفی غُلو" کو حماس سے دور کر دیا جائے گا۔

ذرائع نے باور کرایا کہ سیاسی دستاویز میں جس کا مسودہ بیرون ملک حماس قیادت نے تیار کیا ہے اور وہ اس وقت مجلس شوری کی سطح پر غزہ پٹی میں زیرِ بحث ہے.. اس میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینے پر زور دیتے ہوئے اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ " غُلو کسی طور بھی دینِ حنیف اسلام کی خصوصیات میں سے نہیں ہے۔ وہ دین جس کے ساتھ مذہبی رواداری وابستہ ہے"۔ دستاویز کے مطابق "حماس ایک سُنّی تنظیم ہے اور اسلام اس کا راستہ ہے"۔

شیعہ مسلک کے مذہبی اور سیاسی رخ کے حوالے سے اختلاف

غزہ میں شیعہ مسلک اور جدید دور میں اس کی سیاسی اور مذہبی تعبیرات سے متعلق حماس کی مجلسِ شوری کے موقف کے حوالے سے تنظیم کی قیادت کے بیچ اختلاف پیدا ہو گیا۔

مجلسِ شوری میں تنازع کا فیصلہ غالبا شیخ یوسف القرضاوی کے فتوے کو قبول کرنے کے بعد ہوا جس میں شیعوں کو "اختراع کرنے والا" قرار دیا گیا ہے تاہم ان کی تکفیر نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کو امت مسلمہ سے خارج کیا گیا ہے۔ تاہم حماس کے رہ نماؤں نے شیعہ سیاسی شخصیات کی جانب سے سنیوں کی دنیا میں رسوخ پھیلانے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حماس کی قیادت کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں تنظیم کی مجلسِ شوری کے فیصلے میں اس موضوع کی جانب کسی بھی اشارے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حماس کے مفادات اور ایران اور حزب اللہ کے ساتھ اس کے تعلقات بالخصوص مالی امداد اور عسکری تربیت کا حصول ہے۔ علاوہ ازیں خطے میں فرقہ واریت اور شیعہ سنی کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنا ہے۔

غزہ میں حماس کی ہمنوا ویب سائٹ "الرسالہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق نئے سیاسی دستاویز میں زیرِ بحث اہم ترین نکات میں تنظیم کے منشور میں پہلے باب کی دوسری شق سے گریز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حماس، اسلام پسند تنظیم الاخوان المسلمون کا ایک دھڑا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ حماس اس 'بوجھ' سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ اسے عالمی تنظیم الاخوان المسلمون کا دھڑا قرار دیا جائے۔ اس طرح حماس کے مصر کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے اور تشدد سے اجتناب کے ذریعے یورپ اور ترکی کی سرپرستی میں قابض اسرائیلی حکام کے ساتھ بالواسطہ سیاسی مکالمے کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔