.

الظواہری نے عبداللہ عزام کو "مکّار" قرار دیا تھا : نبیل نعیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری تنظیم "الجہاد الاسلامی" کے سابق جہادی رہ نما نبیل نعیم نے باور کرایا ہے کہ القاعدہ تنظیم کو بنانے والے مصری ہیں اور اس فکر کو وضع کرنے والے بھی مصری ہیں خواہ وہ سید قطب کے افکار ہوں یا الاخوان المسلمون کے افکار.. قاہرہ میں اپنے دفتر میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "عبداللہ عزام اور اسامہ بن لادن کی سوچ سے انحراف نہیں کیا گیا اور وہ اسی طرز پر ہے جیسے پروان چڑھی تھی"۔

نعیم نے بنیاد پرست تنظیموں کے بننے کے سلسلے میں مورودِ الزام سید قطب کی کتابوں کو ٹھہرایا جنہوں نے داعشی اسلوب اور طرزِ فکر کو جنم دیا اور اسی دوران "الاخوان کی طرز فکر بھی تخلیق پائی جو منافقوں کے اخلاق رکھتی ہے"۔

نبیل نعیم نے پہلی مرتبہ جیل کی ہوا سابق مصری صدر انور سادات کی ہلاکت کے بعد افغانستان سے واپسی کے فورا بعد 1981 سے 1987 کے دوران کھائی۔ وہ ایمن الظواہری کے ساتھ آئے تھے جو نعیم سے ایک برس قبل 1984 میں جیل سے باہر آ گئے تھے۔ جیل سے رہا ہو کر نعیم دوبارہ افغانستان چلے گئے۔ اس کے بعد یمن اور پھر 1987 سے 1992 کے درمیان سوڈان میں رہے۔ بعد ازاں پھر سے مصر واپسی ہوئی۔ ان کی آخری گرفتاری 1992 سے جنوری 2011 تک رہی۔ نعیم کی ایمن الظواہری کے ساتھ دوستی کا آغاز 1978 میں ایک حملے میں زخمی ہو جانے کے بعد ہوا جب الظواہری نے ان کے علاج معالجے کی نگرانی کی۔ نعیم کا الظواہری کے ساتھ آخری رابطہ 2011 میں نعیم کے جیل سے باہر آنے کے بعد ہوا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی اور تفصیلی نشست میں نبیل نعیم نے بتایا کہ جیل میں ان کے ساتھ جہادی افکار کے حامل 22 ہزار کے قریب افراد تھے جن میں سے تقریبا 20 ہزار افراد 25 جنوری کے انقلاب سے پہلے جیل سے باہر آ گئے۔ اس طرح جیل میں 2 ہزار سے زیادہ لوگ باقی نہ رہے ان میں 1 ہزار کو سزائیں سنائی جا چکی تھیں اور باقی حراست میں تھے۔ جیل سے باہر آنے والوں میں 80 فی صد نے دوبارہ ہتھیار نہیں اٹھائے۔ جو حصہ واپس اس راستے پر آیا اس کی وجہ الاخوان کی حکومت تھی جس نے ان لوگوں کو نئے سرے سے تنظیم میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ الاخوان اپنے پرچم تلے تمام سلفی گروپوں کو جمع کرنا چاہتی تھی۔

نبیل نعیم کے مطابق سید امام کو القاعدہ کی سوچ کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ 1998 کے اواخر میں ایک موقع پر سید امام نے تکفیری سوچ کا اظہار کیا تو ایمن الظواہری نے اس پر اعتراض کیا۔ دونوں کے درمیان اختلاف بڑھ گیا یہاں تک کہ سید امام یمن میں بیٹھ گئے جب کہ اسامہ بن لادن نے میری اور الظواہری کی سوچ کو اپنایا۔ سید امام کی سوچ کو تمام تکفیری جہادی تنظیموں کے لیے مشعل راہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔

نبیل نعیم نے بتایا کہ "میں نے الظواہری کے ساتھ 3 برس پشاور میں اور 3 برس جیل میں ساتھ گزارے اور اس دوران ہمارا کھانا پینا بھی ساتھ ہوتا تھا.. الظواہری جہالت کے استاد ہیں اور میں ہی ان کو شریعت کے اصول سکھاتا تھا۔ شام میں الظواہری کے بھیجے گئے کمانڈر الجولانی نے بھی سید قطب کی کتاب کے سوا کچھ نہیں پڑھا۔ الظواہری ہر ضرورت میں مجھ سے رجوع کرتے تھے"۔

اسامہ بن لادن کی جانب سے عربوں کے لیے خصوصی عسکری کیمپوں کے قیام کے حوالے سے نعیم نے بتایا کہ "عبداللہ عزام اور عرب جنگجوؤں کے ایک گروپ کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ ان جنگجوؤں نے عزام پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تو جواب میں عزام نے کیمپوں کو مالی رقوم کی فراہم روک دی۔ میں اس وقت الجهاد ولی کیمپ میں ہوتا تھا۔ الظواہری کے کہنے پر میں ابو عبیدہ البندشیری کے ساتھ سعودی عرب گیا اور وہاں اسامہ سے ملاقات میں ان سے مداخلت اور مصالحت کرانے کی درخواست کی۔ تاہم عبداللہ عزام نے مصالحت کو یکسر مسترد کر دیا۔

مصالحت میں ناکامی کے بعد اسامہ بن لادن نے الظواہری کو 6 عسکری کیمپوں کے 6 ماہ کے اخراجات کی رقم دے دی۔ ان کیمپوں کو القاعدہ العسکریہ کا نام دینے والا ایک مصری افسر تھا جس کا نام سید موسی تھا۔ عبداللہ عزام نے عسکری اڈہ قائم کرنے پر اسامہ کے ساتھ اتفاق رائے کیا۔ زمین پر اس کو قائم کرنے والے درحقیقت مصری ہیں۔ بالآخر عرب جنگجو اسامہ بن لادن کے ہاتھ پر بیعت ہونے پر آمادہ ہو گئے۔

نبیل نعیم کے مطابق "اسامہ بن لادن الاخوان المسلمون کو سپورٹ کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے خود بتایا کہ وہ شام میں اخوان کے لیے عطیات جمع کرتے تھے۔ اسامہ کے مطابق الاخوان نے ان کو اردن میں کیمپوں کے قیام اور وہاں ایک اسلامی فوج تیار کرنے پر قائل کیا۔ اسی واسطے اسامہ نے تقریبا 10 کروڑ ریال کے عطیات اور لینڈ کروزر گاڑیاں انہیں فراہم کیں۔ ان سب کو لے کر وہ مکر گئے جس کے بعد سے الاخوان اسامہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہو گئی اور وہ الاخوان کو جعلساز شمار کرتے تھے"۔

نبیل نعیم کے مطابق "ایمن الظواہری کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی تربیت سید قطب کی کتابوں کے ذریعے ہوئی ہے اور وہ ان کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے الاخوان کی ملامت میں ایک کتاب "الحصاد المر" بھی لکھی اور مجھ سے رائے طلب کی مگر مجھے وہ پسند نہ آئی ، میں نے ان کو بتا دیا کہ جو کوئی بھی یہ کتاب پڑھے گا وہ الاخوان کی تکفیر ہی کرے گا"۔

عبداللہ عزام اور ایمن الظواہری کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے نبیل نعیم نے بتایا کہ : "الظواہری عزام کو بہت پسند کرتے تھے تاہم وہ کہتے تھے کہ عزام کی باتیں "مکّارانہ" ہیں اور وہ جھوٹے ہیں۔ بالخصوص عزام کی کتاب "آيات الرحمن" کے بعد جس میں انہوں نے مجاہدین کی کرامات کا ذخر کیا ہے"۔ البتہ الظواہری کا میلان اسامہ کی طرف زیادہ تھا۔ اس لیے کہ عبداللہ عزام اخوان تھے اور الاخوان کی مثال یہودیوں یا باطنی شیعوں کی طرح ہے۔ جھوٹ ، چوری اور آبرو ریزی تاہم پھر تقیہ کا سہارا لے لیتے ہیں اور جو کوئی ان کی مخالفت کرتا ہے وہ اس کی نفرت دلوں میں رکھتے ہیں"۔