.

شاہ سلمان کا یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن حل پر زور

ایران خطے کے ممالک کی خود مختاری اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کرے: امیرِ کویت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اٹھائیسویں عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن اور فوری حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یمن کا اتحاد اور استحکام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ یمنی بحران کا حل خلیجی اقدام اور بین الاقوامی مذاکرات کے نتیجے پر مبنی ہونا چاہیے۔

شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں بعض عرب ممالک میں جاری بد امنی اور جنگوں کی جانب دنیا کی توجہ مرکوز کرائی ہے۔انھوں نے شام میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی عوام قتل ہورہے ہیں۔اس لیے اس بحران کا فوری طور پر کوئی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین نے تمام متحارب فریقوں پر اس ملک کی قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ وہ اپنے ملک میں سلامتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ’’ اس وقت عرب اقوام کو سب سے زیادہ خطرہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے درپیش ہے‘‘۔انھوں نے عرب دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقتصادی میکانزم کو فعال بنانے پر بھی زور دیا۔

ایران عرب ممالک کی خود مختاری کا احترام کرے

عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے کہا کہ عرب بہار (عرب اِسپرنگ) نے متعدد عرب ممالک میں تعمیر و ترقی کا پہیہ جام کردیا ہے۔ عرب ممالک کو درپیش بڑے چیلنج مشترکہ عرب طریق کار کی پاسداری کا تقاضا کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مفادات کے تصادم کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کا حل رکاوٹوں کا شکار ہے۔

امیرِ کویت نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کے ممالک کی خود مختاری اور اچھی ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کا احترام کرے۔ انھوں نے لیبیا کی قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ شیخ صباح کے مطابق اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو یقینی بنانے کی راہ میں حائل ہے۔

خطے کو سنگین چیلنجوں کا سامنا

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ خطے کو اس وقت سنگین چیلنج درپیش ہیں اور ان سے خطے کے ممالک کی وحدت اور سلامتی کو بھی خطرات درپیش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عوام عرب قیادت کی جانب سے ایک ایسے موقف کی امید رکھتے ہیں جو عرب دنیا کو پھر سے ایک صف میں لا کھڑا کرے اور خطرات کے سامنے فیصلہ کن انداز سے ڈٹ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خطے کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی کا پھیلاؤ ہے۔اس کے علاوہ عرب ریاستوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

السیسی نے خطے کے ممالک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت کے اضافے کی جانب بھی اشارہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو جہتوں میں کام کرنا ہوگا۔ ایک تو انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور دوسرا یہ کہ ریاستی اداروں کو مضبوط بنا کر خطے میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں۔ انھوں نے شامی عوام کو درپیش مصائب کو وقت کا اہم ترین بحران قرار دیا۔

عرب یک جہتی ناگزیر ہے

عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا کہنا تھا کہ ہم یکساں ویژن اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے باور کرایا کہ فلسطینی ریاست غزہ پٹی کے بغیر یا پھر صرف غزہ پٹی کے اندر قائم نہیں ہو گی۔

شیخ تمیم نے زور دیا کہ شامی حکومت کو سلامتی کونسل کی قرار داد 2336 پر عمل درامد کے لیے مجبور کیا جائے۔ امیر قطر نے شامی پناہ گزینوں کی میزبانی پر اردن اور لبنان کو خراج تحسین پیش کیا۔

دو ریاستی حل امن کا واحد راستہ

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ فلسطین میں امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ تنازعے کا دو ریاستی حل ہے۔ انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی قرار دادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی لا کر دو ریاستی حل کو سبوتاژ کر رہی ہے۔انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بستیوں کی آبادکاری اور فلسطینی سرزمین پر قبضے کی پالیسی کو ترک کر دے۔ مبادا یہ سیاسی تنازع مذہبی تنازع میں تبدیل ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ درجنوں ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اس کا پرچم بھی لہرا رہا ہے لیکن ہم جنرل اسمبلی میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں فلسطینی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ہم قانون ساز کونسل اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کی غرض سے فلسطینی دھڑوں میں مصالحت کے لیے بھی پرامید ہیں۔