.

عمان: شاہ سلمان سے مصری صدر اور عراقی وزیراعظم کی الگ الگ ملاقات

خادم الحرمین الشریفین کی عبدالفتاح السیسی کو آیندہ ماہ سعودی عرب کے دورے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عرب امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر السیسی اور سعودی شاہ کے درمیان ملاقات اول الذکر کی عرب سربراہ اجلاس میں تقریر کے فوری بعد ہوئی تھی۔ دونوں عرب رہ نماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے میں ایران کی مداخلت کو روکنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس ملاقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مصری صدر کو آیندہ ماہ سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی ہے اور عبدالفتاح السیسی نے بھی جواب میں شاہ سلمان کو مصر کے دورے کی دعوت دی ہے۔

ان کے بہ قول ملاقات میں دونوں رہ نماؤں نے ایران، عرب امور میں اس کی خطرناک مداخلت اور دہشت گردی کے لیے حمایت کے حوالے سے خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مصر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد میں شامل ممالک میں سے ایک ہے جو یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

اس موقع پر مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی اتحاد ناگزیر ہے۔

شاہ سلمان سے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی عمان میں عرب سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی ہے اور ان سے داعش کے خلاف جنگ اور دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

حیدر العبادی نے عرب سربراہ اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ عرب عوام اس وقت اپنے قائدین کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ بیرونی عوامل کو عرب ریاستوں پر اثر انداز ہونے سے روکنے کے لیے ضروری فیصلے کریں گے اور اس ضمن میں اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں گے۔

انھوں نے کہا :’’ کوئی بھی ملک اپنے طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا ہے اور ہماری خوشیاں اس وقت تک مکمل نہیں ہوں گی جب تک ہم تمام عرب اقوام میں داعش کو شکست سے دوچار نہیں کر دیتے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنی تقریر میں داعش کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق کے اتحاد کے بغیر فتح کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور عراقی فوج کا ملک بھر میں خیرمقدم کیا جارہا ہے۔