.

متحارب شامی مذاکرات کاروں کے ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز کلمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس شہر جنیوا میں گذشتہ آٹھ روز سے جاری امن مذاکرات میں شریک شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مذاکرات کاروں نے ایک دوسرے پر تندو تیز حملے کیے ہیں اور ایک دوسرے کو ’’دہشت گرد‘‘ اور ’’ نابالغ‘‘ قرار دیا ہے۔

جنیوا میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست بات چیت نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا کے ذریعے بالواسطہ بات چیت ہوتی رہی ہے مگر اس کا کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

حزب اختلاف کے اعلیٰ مذاکرات کار نصر الحریری نے صدر بشارالاسد کی حکومت کو ’’ دہشت گرد رجیم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے مذاکرات کے دوران میں سیاسی انتقال اقتدار پر تبادلہ خیال سے ہی انکار کردیا تھا۔انھوں نے کہا کہ بشار الاسد ایک جنگی مجرم ہیں اور انھیں امن کے نام پر اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ شامی حکومت کا وفد صرف دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق اپنے خالی خولی دعووں کے بارے میں ہی گفتگو کرتا رہاہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر شام میں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

نصر الحریری نے مزید کہا:’’ جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم مذاکرات کے لیے کوئی آپشن نہیں ہونے چاہییں۔اب جنگی جرائم کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کیا جانا چاہیے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے مذاکراتی شراکت دار کی تلاش میں ہیں جو شامی عوام کے مفادات کو پہلی ترجیح دے جبکہ ان کے مد مقابل شامی حکومت کے اعلیٰ مذاکرات کار بشار الجعفری نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جو ’’ محب وطن‘‘ ہو۔

انھوں نے حزب اختلاف کے وفد کو ’’ نابالغ‘‘ قرار دے کر اس کا مضحکہ بھی اڑایا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ٹیلی ویژن کے ’’ عرب آئیڈل‘‘ یا ’’ دا وائس‘‘ ایسے کسی ٹیلنٹ شو میں نمودار ہورہے ہیں۔وہ اس التباس کا بھی شکار ہیں کہ حکومت انھیں بآسانی ملک کی چابیاں حوالے کردے گی۔

انھوں نے حزب اختلاف کے وفد پر یہ سنگین الزام عاید کیا کہ ’’ درحقیقت وہ اپنے آقاؤں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں، وہ ان کے گماشتے اور آلہ کار ہیں۔بظاہر یہ لگتا تھا کہ انھیں دہشت گردی کی حمایت اور مذاکرات کے اس دور کو سبوتاژ کرنے کے سوا کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی تھیں‘‘۔

بشارالجعفری نے مزید کہا کہ ان کے وفد نے ڈی میستورا کو مذاکرات کے تمام پہلوؤں ، انتخابات ،آئین ،اصلاح شدہ نظم ونسق اور دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق تجاویز پر مبنی دستاویزات دی ہیں لیکن حزب اختلاف نے ان کا کچھ جواب نہیں دیا ہے۔

شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کی توہین آمیز زبان کے استعمال کے باوجود ڈی میستورا کا کہنا تھا کہ دونوں فریق مزید بات چیت کے لیے مل بیٹھنے کو تیار ہیں۔تاہم یہ اور بات ہے کہ انھیں یہ مذاکرات فوری طور پر کسی امن سمجھوتے میں ڈھلتے نظر نہیں آرہے ہیں۔

عالمی ایلچی کا کہنا تھا:’’ برسرزمین کچھ چیلنجز درپیش ہیں اور ہم انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں لیکن دونوں کے درمیان اس طرح کے اختلافات کے باوجود کسی فریق نے مذاکرات کا بائیکاٹ نہیں کیا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال جنیوا میں مذاکرات کا عمل روس اور امریکا کی حمایت اور سرپرستی سے شروع ہوا تھا۔روس اس وقت شامی صدر بشارالاسد کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کررہا ہے جس کی وجہ سے شام میں جاری جنگ کا پانسا ہی پلٹتا نظر آرہا ہے جبکہ امریکا اس کے مقابلے میں باغیوں کی حمایت سے قریب قریب دستبردار ہوچکا ہے۔اب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے جمعرات کو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بشار الاسد کی رخصتی ان کی ترجیح نہیں تھی۔

تاہم اس کے باوجود شامی حزب اختلاف کے اعلیٰ مذاکرات کار نصر الحریری کا کہنا تھا کہ امریکا ان کا دوست ہے اور اس کے موقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایران کے اثرورسوخ کو کم کرنا اس کی بدستور ترجیح ہے۔