.

مغربی کنارے میں بستیوں کی "اندھا دھند" توسیع پر امریکی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے آبادکاروں کی بستیوں کی "بے سوچے سمجھے" توسیع امن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی بستی کے قیام کی منظوری کے فیصلے کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

وہائٹ ہاؤس میں ایک ذمّے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "صدر ٹرمپ نے اعلانیہ طور پر اور نجی محفلوں میں بھی یہودی بستیوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر بستیوں کا وجود بذات خود امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں تو بھی اس کی اندھا دھند توسیع امن کے عمل کو آگے لے جانے میں مددگار نہیں ہو گی."

رواں سال فروری میں وہائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا استقبال کرنے سے چند روز قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے نزدیک بستیوں کی توسیع "امن کے لیے کوئی اچھا" امر نہیں ہے۔

امریکی ذمے دار نے دوسری جانب واضح کیا کہ امریکی اور اسرائیلی اہل کاروں کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بات چیت میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان "حقیقی امن کے مواقع آگے بڑھانے کے لیے عام فضا بہتر بنانے" کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز رہی اور اس سلسلے میں بستیوں کا معاملہ بھی سنجیدہ اور تعمیری انداز میں زیرِ بحث آیا۔

مذکورہ ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مستقبل میں وہ جس پالیسی پر عمل پیرا ہو گی اس میں ٹرمپ کے موقف کو توجہ حاصل رہے گی۔