.

اسرائیل: فلسطینی قیدیوں اور شہداء کے معاوضے پر قدغن کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کے سلسلے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اب وہ فلسطینیوں کو اُس معاوضے سے بھی محروم کرنے کے لیے کوشاں ہے جو فلسطینی اتھارٹی انہیں ادا کرتی ہے۔ نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ اسرائیل جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کے خاندانوں کو ادا کی جانے والی رقم کی کٹوتی کے لیے بھی متحرک ہو گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک قانونی بِل کی قرار داد پیش کی گئی ہے جس میں اسرائیل کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان معاہدوں کے تحت فلسطینی خزانے میں منتقل کیے جانے والے مالی واجبات کی رقم سے اُس معاوضے کو منہا کر لے جو فلسطینی قیدیوں یا شہداء کے اہل خانہ کے لیے مختص ہے۔

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے پیر کے روز بتایا ہے کہ قرارداد پیش کرنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ 2016 کے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیدیوں یا شہداء کے خاندانوں کو ادا کیے جانے والے معاوضے کا حجم تقریبا 1.1 ارب اسرائیلی شیکل یعنی 30 کروڑ امریکی ڈالر کے قریب ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کے دعوے کے مطابق قیدیوں اور شہداء کے خاندانوں کو مختص کردہ رقم کا کچھ حصہ اُن مالی واجبات سے جاتا ہے جو اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرتا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک ہفتہ قبل پیش کی جانے والی اس قرار داد میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے سبب فلسطینی اتھارٹی کی رقوم کی کٹوتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد پیش کرنے والوں کا دعوی ہے کہ فلسطینی قیدیوں اور شہداء کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی ان ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ادا کیے جانے والے مالی واجبات میں سے سالانہ 1.1 ارب شیکل کی کٹوتی کی جائے۔

اس سلسلے میں قرارداد کے پیچھے سرگرم ارکان کا کہنا ہے کہ قیدیوں اور شہداء کے خاندانوں کے لیے مختص رقم درحقیقت دہشت گرد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے لہذا اس جنون کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

مذکورہ قانون سے متعلق قرار داد پر پارلیمنٹ میں اتحادی اور اپوزیشن بلاک کے ارکان نے دستخط کر دیے ہیں۔