.

اسرائیل منظم انداز میں غزہ تک رسائی سے روک رہا ہے: ایچ آر ڈبلیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ بڑے منظم انداز میں محققین کو غزہ کی پٹی میں جانے سے روک رہا ہے تا کہ وہ وہاں جا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ریکارڈ نہ کرسکیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے 47 صفحات کو محیط ایک رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں اس نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ سنہ 2008ء سے اس کے محققین کو غزہ جانے سے روک رہا ہے اور اس دوران میں صرف ایک مرتبہ اور وہ بھی گذشتہ سال اس نے غزہ جانے کے لیے اجازت نامہ جاری کیا تھا۔

تنظیم نے مصر پر بھی یہ الزام عاید کیا ہے کہ اس نے اس کے علاوہ لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کو سنہ 2012ء کے بعد سے اپنے علاقے سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور مصر نے 2007ء میں غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے بعد سے اس فلسطینی علاقے کا برّی اور بحری محاصرہ کررکھا ہے اور اس دوران میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تین جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں اور یہ تینوں جنگیں اسرائیل ہی نے غزہ پر مسلط کی تھیں۔

اسرائیل نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ پر متعصب ہونے کا الزام عاید کر چکا ہے اور گذشتہ ماہ اس نے اس گروپ کے علاقائی ڈائریکٹر کو ورک پرمٹ جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ البتہ بعد میں انھیں ایک سیاح کے طور پر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔

اس رپورٹ میں مصر کے علاوہ حماس پر بھی تحقیقات کاروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر تنقید کی گئی ہے۔اس نے کہا ہے کہ حماس انسانی حقوق کے مقامی کارکنان کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور بعض اوقات اس کے سکیورٹی اہلکار تنقید کرنے والے کارکنان کو گرفتار کرلیتے ہیں یا پھر انھیں ہراساں کرتے ہیں۔

تنظیم کے علاقائی ڈائریکٹر ساری باشی نے ان تینوں فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ انسانی حقوق کے گروپوں کے اہم کام کو تحفظ مہیا کیا جاسکے۔