.

داعش کے ستم رسیدہ عراقی خاندان کی دل گداز داستان

بہن کی جگہ قید کی سزا قبول کرنے والا نوجوان لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ سفاک دہشت گرد تنظیم ’دولت اسلامی‘[داعش] کے ظلم وستم کی کہانیاں آئے روز ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی ہیں۔

ایسی ہی المناک اور دل گداز داستانوں میں ایک حقیقی واقعہ عراق کے ایک ستم رسیدہ خاندان کا ہے جو داعش کے ظلم کا بغیر کسی وجہ کے شکار ہوا۔ تمام افراد داعش کی دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد ماں کا جواں سال بیٹا داعش کے ظلم کی بھینٹ چڑھ گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس المناک داستان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ موصل کی رہائشی ام علاء نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اپنی کتھا خود سنائی۔ اس نے بتایا کہ یہ پچھلے سال 14 رمضان کا دن تھا۔ ان کے مالی حالات تنگ تھے۔ گھر میں صرف ایک انگوٹھی تھی۔ انہوں نے اپنے شوہر کے مشورے سے انگوٹھی بازار میں لے جا کر فروخت کرنے اور اس کے عوض ملنے والی رقم سے گھر کی دال روٹی کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا۔ بدقسمتی سے وہ انگوٹھی فروخت کرنے کے لئے اپنے شوہر، پندرہ سالہ بیٹی سمیرہ اور بیٹے علاء کے ہمراہ گھر سے نکل پڑی۔ موصل اس وقت داعش کے زیرتسلط تھا اور داعشی غنڈہ جگہ جگہ پر اسلحہ تانے کھڑے تھے۔ ’داعش‘ کے ’الحسبہ‘ شعبے کے ایک روسی جنگجو نے انہیں راستے میں روکا اور کہا کہ اس کی بیٹی نے شرعی پردہ نہیں کررکھا۔ حالانکہ سمیرہ نے چہرے پر اوڑھنی بھی اوڑھ رکھی تھی۔ دونوں ماں باپ نے داعشی جنگجو کو بتایا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔ ابھی چھوٹی ہے۔ نیز وہ اپنے والدین کے ساتھ جا رہی ہے جو اس کے محرم ہیں۔

داعشی دہشت گرد نے ایک نہ سنی اور دوبارہ گلا پھاڑ پھاڑ کر برقعہ اوڑھنے کا کہنے لگا۔ دونوں میاں بیوی نے جنگجو کو بہتیرا سمجھایا۔ مگر معاملہ سلجھنے کے بجائے اس وقت اور الجھ گیا کہ جب سمیرہ نے داعشی کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی۔ داعشی دہشت گرد نے سمیرہ پر نقاب نہ کرنے کے بجائے ’حسبہ‘ اہلکار سے بدتمیزی کرنے اور اس پرحملہ کرنے کا الزام عاید کرنے کے الزام میں اس کے والد سمیت دونوں کو حراست میں لے لیا۔

ام علاء کہتی ہیں کہ وہ چیختی چلاتی داعشی جج کے پاس گئیں۔ اس وقت اس کے شوہر کو ایک کمرے کمرے میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر بٹھایا گیا تھا جب کہ سمیرہ کو ایک دوسری جگہ رکھا گیا تھا۔ اس نے جج سے بار بار فریاد کہ اس کے شوہر اور بیٹی کو چھوڑ دیں کیونکہ ان کا کوئی قصور نہیں۔

مگر داعشی جج بھی تو داعشی ہی تھا۔ اس نے مظلوم خاتون کی آہ وبکا پر کوئی توجہ نہ دی۔ حتیٰ کہ اسے بلیک میل کرنے لگا۔

داعشی سے شادی کی شرط پر رہائی

ام علاء نے بتایا کہ داعشی جج نے کہا کہ ایک شرط پر سمیرہ کو رہا کیا جا سکتا ہے کہ اس کی اسی جنگجو کے ساتھ شادی کردی جائے جس کے ساتھ اس نے بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ علاء کہتی ہیں میں نے ان کی یہ ظالمانہ اور غیرمنصفانہ تجویز مسترد کردی اور کہا کہ اس کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے، وہ اس طرح کسی مرد کے ساتھ اس کی شادی کی اجازت نہیں دیتی۔

داعشی جج نے اس کے شوہر کو رہا کردیا۔ جب بیٹی کو پتا چلا کہ اس کے والد کو رہا کردیا گیا ہے اور وہ داعشی دہشت گردوں کی قید میں تنہا رہ گئی ہیں تو اس نے بھی بہت چیخ پکار کی۔

داعشی جج ایک ہی بات پر اڑا رہا کہ وہ سمیرہ کی اسی شرط پر رہائی کا حکم دے گا کہ وہ جنگجو کے ساتھ شادی کرے گی۔ اس پر ام علاء بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ موقع پر موجود داعشی جنگجوؤں کی عورتوں نے اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔

بلیک میلنگ کی ایک اور کوشش

اسی کشمکش میں ایک اور داعشی لیڈر کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور اس نے کہا کہ میں ایک تیسرا حل پیش کرتا ہوں جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔ وہ یہ کہ سمیرہ کو رہا کردیا جاتا ہے مگر اس کی جگہ اس کے بھائی علاء کو اس کی سزائے قید کاٹنا ہوگی۔ دونوں [میاں بیوی] نے داعشی جنگجو کی اس تجویز پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور ایک بار پھر اپنی بیٹی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

ام علاء گھر واپس لوٹیں تو سارا قصہ بیٹے کو بیان کیا۔ بیٹے نے کہا کہ وہ اپنی بہن کی عزت اور زندگی بچانے کے لیے اس کی جگہ جیل جانے کو تیار ہے۔ چنانچہ وہ اپنے والد کے ساتھ داعشی عدالت میں جا پہنچا۔

یہاں داعشی دہشت گردوں نے ایک اور شرط عاید کی اور کہا کہ اب علاء یہ اعلان کرے کہ وہ داعش کا رکن ہے۔ اس پر سب نے احتجاج کیا تو داعشی دہشت گردوں نے کہا کہ ہم مفت میں اسے دو ماہ کے لیے کھانا پینا کیوں فراہم کریں گے۔ قید کی سزا پوری کرنے کے بعد یہ ہمارے ساتھ کام کرے گا۔

اس نے قید پوری کی اور اس کے بعد بغیر کسی معاوضے کے داعشی دہشت گردوں کے دباؤ پر دو ماہ ان کے پاس کام کاج کرتا رہا۔ دوگذر جانے کے بعد وہ فرار ہوا مگر گھر نہیں پہنچا۔ ام علاء، اس کا شوہر اور بیٹی سمیرہ تینوں علاء کے لیے بہت زیادہ فکر مند اور پریشان ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا اور وہ اب کہاں ہے؟