.

"العربیہ" نے شامی حکومت کے مندوب الجعفری کو چراغ پا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل کی جانب سے شامی حکومت کی ناک میں دم کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں شامی حکومت کے مندوب اور جنیوا میں شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری ایک مرتبہ پھر "العربیہ" کے نمائندے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آپے سے باہر ہو گئے اور اُس کے سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

سامنے اسکرین پر "العربیہ" نیوز چینل کے آ جانے پر بشار الجعفری کیسا محسوس کرتے ہیں ؟

جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر سر پرستی شام کے حوالے سے بات چیت کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس میں "العربیہ" کے نمائندے محمد دغمش کو مخاطب کرتے ہوئے بشار الجعفری نے ایک مرتبہ پھر "العربیہ" نیوز چینل کے متعلق اپنی منافرت کا بھرپور اظہار کیا۔

شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے وقت سے ہی الجعفری "العربیہ" کے حوالے سے مشتعل رہتے ہیں۔

ماضی میں سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران الجعفری کے زبان سے نکلے ہوئے الفاظ یہ تھے : " دو روز قبل میں العربیہ چینل دیکھ رہا تھا جس پر استنبول میں ایک دہشت گرد کے ساتھ گفتگو چل رہی تھی"۔ اس جملے سے شامی ذمے دار کے دل میں چھپے بغض کا واضح طور پر اظہار ہوتا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کو کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں جس کے معترف خود الجعفری بھی ہیں۔ تاہم وہ شامی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں اور شامی عوام کے قتل کے بارے میں حقائق دکھانے پر چراغ پا رہتے ہیں۔ اسی واسطے وہ "العربیہ" کو تشدد پر اکسانے کا آلہ اور دہشت گردوں کا پلیٹ فارم شمار کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایک موقع پر الجعفری سلامتی کونسل میں یہ بھی بول چکے ہیں کہ "العربیہ نیوز چینل آپریشنز روم سمجھا جاتا ہے۔ اس نے دہشت گرد شہریوں کی ہلاکت کی خبر واقعے سے پہلے ہی نشر کر دی"۔

سلامتی کونسل جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر الجعفری نے اپنی حکومت اور انقلابیوں کے درمیان معرکے کو نظر انداز کر دیا اور "العربیہ" کے ساتھ اپنے ذاتی معرکے کو لے کر بیٹھ گئے۔