.

اسد رجیم شامی صوبے ادلب میں کیمیائی حملے کا ذمےدار ہے: مغرینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو شمال مغربی صوبے ادلب میں کیمیائی حملے کا بنیادی ذمے دار قرار دیا ہے۔ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ قصبے خان شیخون پر منگل کی صبح فضائی حملے میں کم سے کم ساٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ان میں آٹھ سال سے کم عمر کے گیارہ بچے بھی شامل ہیں۔

مس مغرینی نے برسلز میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شام میں بعد از جنگ کی صورت حال کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ آج کی خبر بہت ہی افسوس ناک ہے‘‘۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اس فضائی حملے کے بعد بہت سے افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی یا ان کا دم گھٹ گیا تھا اور بعض افراد کے مُنھ سے جھاگ نکلنا شروع ہوگیا تھا۔طبی ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی حملہ تھا لیکن شامی فوج کے ایک ذریعے نے فضائی حملے میں ایسا کوئی خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔

ادلب میں محکمہ صحت کے سربراہ منظر خلیل نے کہا ہے کہ ’’ آج صبح ساڑھے چھے بجے لڑاکا طیاروں نے گیسوں سے خان شیخون پر حملہ کیا تھا۔یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ سیرین اور کلورین گیس سے حملہ تھا‘‘۔انھوں نے پچاس سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور کم سے کم تین سو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے ادلب میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ صوبے کے بیشتر اسپتال اس وقت زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔رصدگاہ اور شہری دفاع کے کارکنان نے بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے بعد میں ایک طبی مرکز کو بھی اپنے فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا،وہاں پہلے کیمیائی حملے میں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کیا جارہا تھا۔

شام میں اگست 2013ء میں دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں سیرین گیس کے حملے کے بعد یہ سب سے تباہ کن کیمیائی حملہ ہے۔تب غوطہ میں کیمیائی حملے میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوگئے تھے اور مغربی ممالک نے شامی حکومت کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا لیکن اس نے الٹا باغیوں پر اس حملے کا الزام عاید کردیا تھا۔

شام کے اتحادی روس نے ادلب میں کیمیائی حملے سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے ادلب پر فضائی حملے نہیں کیے ہیں۔فرانس نے شام میں اس مشتبہ کیمیائی حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے اس مشتبہ حملے کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ ترک ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں نے شام میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔